محترم حضرات علماء کرام!مؤدبانہ گزارش ہے کہ مجھے عرصہ دراز سے میرے ذہن میں کچھ سوالات پیدا ہو رہے ہیں، جن کا مجھے کوئی خاطر خواہ جواب نہیں مل سکا، آپ سے گزارش ہے کہ ان سوالات کے جوابات قرآن و حدیث کی روشنی میں عنایت فرمائیں، اللہ رب العزت آپ کے درجات کو بلند فرمائے۔ آمین!
۱۔ کیا کوئی سنّی لڑکا کسی دیوبندی لڑکی سےاور سنّی لڑکی کسی دیوبندی لڑکے سے نکاح کر سکتی ہے یا نہیں؟ جبکہ دونوں اشخاص اپنے اپنے مسلک کے بارے میں نہایت معلومات رکھتے ہیں، اگر نہیں کر سکتے تو کیوں؟
۲۔ میں نے سنا ہے کہ سنی اور دیوبندی اشخاص میں صرف پانچ یا چھ نکات پر اختلاف ہے وہ اختلاف کون کون سے ہیں؟ براہ کرم کتاب کے بھی حوالے دیجیے اور تفصیل سے جواب تحریر فرمائیں تا کہ تمام حقائق واضح ہو جائیں اور میرے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات بھی ختم ہو جائیں۔
سب سے پہلے تو یہ واضح ہو کہ موجودہ اسلامی مذہبی جماعتوں اور تنظیموں میں سے ’’سنی‘‘ کسی ایک خاص جماعت اور تنظیم کا نام نہیں، بلکہ ’’سنی‘‘ ہر وہ شخص اور جماعت کہلاتی ہے جس کے عقائد و نظریات قرآن و سنت اور جماعتِ صحابہ و تابعین کے موافق ہوں، چاہے وہ دیوبندی کہلاتے ہوں یا کوئی اور، ان کا باہم عقدِ نکاح بھی بلاشبہ جائز اور درست ہے، تاہم اگر سنی سے بریلوی مراد ہوں جیسا کہ لوگوں میں معروف ہوگیا ہے تو ان میں اور اہل سنت والجماعت علماء دیوبند میں جو اختلاف ہے اس کی توضیح کے لیے حضرت مولانا یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ کی کتاب "اختلافِ امت اور صراط مستقیم" کا مطالعہ مفید رہے گا۔