مفتی صاحب! میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ آج شب براءت ہے ۔ اور آج کے دن مرد اور عورتیں شام کو قبرستان جانا شروع کردیتے ہیں ۔براہ مہربانی بتادیں کیا اس دن قبرستان جانا ٹھیک ہے؟جبکہ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ حضور ﷺ صرف اپنی زندگی میں ایک دفعہ رات کو قبرستان گئے تھے ۔ وہ معاملہ تو اور ہے پھر کیا یہ سب اس رات کی وجہ سے جاتے ہیں یا یہ علیحدہ معاملہ ہے ؟
پندرھویں شعبان شب براءت میں آپ ﷺ اپنی پوری زندگی میں ایک مرتبہ بقیع قبرستان تشریف لےگئے تھے، اگر کوئی مسلمان آپ کی اتباع میں شب براءت کو قبرستان چلائے جائے تو ان شاءاللہ ماجور بھی ہوگا، لیکن اس کو ضروری سمجھنا اور شب براءت میں قبرستان میں حاضری دینا محض ایک رسم ہے اور پھر اس میں اور بھی مفاسد مثلاً:مردوں اور عورتوں کا اجتماع اور اختلاط اور دیگر غیر شرعی امور کا ارتکاب بھی ہونے لگے ہیں جو شرعاًناجائز اور گناہ ہے، اس لیے اس سے احتراز ہے ۔
کما فی سنن الترمذي : عن عائشة قالت: فقدت رسول الله - صلى الله عليه و سلم- ليلة فخرجت فإذا هو بالبقيع فقال أكنت تخافين أن يحيف الله عليك ورسوله ؟ قلت يا رسول الله إني ظننت أنك أتيت بعض نساءك فقال إن الله عز و جل ينزل ليلة النصف من شعبان إلى السماء الدنيا فيفغر لأكثر من عدد شعر غنم كلب وفي الباب عن أبي بكر الصديق الخ- (3 / 116)
وفی حواشیہ: ہی اللیلۃ الخامسۃ عشر شعبان وسمّی لیلۃ البراءۃ وأما إیقاد السرج وغیرہا من أدوات اللہو کما یفعلہ عوام الہند فکانہ ماخوذ من فعل الہنود فی الدوالی ولا أصل لہ فی الحدیث اھ ۔ (۱/۹۲)
و فی الفتاوى الهندية : وأفضل أيام الزيارة أربعة يوم الاثنين والخميس والجمعة والسبت والزيارة يوم الجمعة بعد الصلاة حسن ويوم السبت إلى طلوع الشمس ويوم الخميس في أول النهار وقيل في آخر النهار وكذا في الليالي المتبركة لا سيما ليلة براءة وكذلك في الأزمنة المتبركة كعشر ذي الحجة والعيدين وعاشوراء وسائر المواسم كذا في الغرائب- (5 / 350)۔ والله أعلم بالصواب!