السلام علیکم! خوارج کون ہیں؟ خوارجی شخص کی نشانی کیا ہے؟ کیا آج بھی خوارج موجود ہیں؟
’’خوارج‘‘ نام کا ایک فرقہ تھا جس کا ظہور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عہدِ مبارک میں ہوا۔ اور وہ اپنے غلط اور باطل گمان کے مطابق حضرت علیؓ اور ان کے متبعین صحابہ کرامؓ کو نعوذ باللہ اہلِ باطل سمجھتا تھا ،ان کا عقیدہ تھا کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب کافر ہے، بعض محدّثینِ کرامؒ نے اس فرقہ پرکفر کا بھی فتویٰ لگایا ہے،مگر جمہور محدّثین اور فقہاء ِکرام نے اس فرقہ کو باغی اور فاسق کہا ہے اور آج کل ایسے لوگوں کا غالباً کوئی وجود نہیں۔
ففی الدر المختار: وخوارج وهم قوم لهم منعة خرجوا عليه بتأويل يرون أنه على باطل كفر أو معصية توجب قتاله بتأويلهم، ويستحلون دماءنا وأموالنا ويسبون نساءنا، ويكفرون أصحاب نبينا - صلى الله عليه وسلم -، وحكمهم حكم البغاة بإجماع الفقهاء كما حققه في الفتح وإنما لم نكفرهم لكونه عن تأويل وإن كان باطلا۔ (4/ 262)-
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله: كما حققه في الفتح) حيث قال: وحكم الخوارج عند جمهور الفقهاء والمحدثين حكم البغاة. وذهب بعض المحدثين إلى كفرهم. قال ابن المنذر: ولا أعلم أحدا وافق أهل الحديث على تكفيرهم، وهذا يقتضي نقل إجماع الفقهاء. (4/ 262) واللہ أعلم بالصواب