کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا جماعت میں سنی کو شیعہ کے پیچھے نماز ادا کرنے کی اجازت ہے؟ کیا شیعہ واقعی مسلمان تصور کئے جاسکتے ہیں؟ کیا شیعہ سے تعلقات رکھے جاسکتے ہیں؟
شیعوں کے حکم میں تھوڑی سی تفصیل ہے وہ یہ کہ جو شیعہ کفریہ عقائد رکھتے ہیں مثلاً حضرت علیؓ کو إلٰہ مانتے ہوں یا حضرت جبرئیل کے وحی لانے میں غلطی کے قائل ہوں یا موجودہ قرآنِ کریم میں نقص یا تحریف کے قائل ہوں یا حضرت ابوبکر صدیقؓ کی صحابیت کے منکر ہوں یا حضرت عائشہؓ پر لگائی جانے والی تہمت کو سچا مانتے ہوں یا اس کے علاوہ کوئی اور صریح کفریہ عقیدہ رکھتے ہوں تو ایسے شیعہ بلاشبہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں ان سے دوستانہ تعلقات رکھنا اور شادی بیاہ کے معاملات کرنا یا اُن کی اقتداء میں نماز پڑھنا قطعاً ناجائز اور حرام ہے ان سب امور سے احتراز واجب ہے اور جو شیعہ مذکورہ عقائد نہ رکھتے ہوں مگر صحابہ کرام پر ’’تبرا‘‘ کرتے ہوں یا حضراتِ شیخین یعنی حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کو گالیاں دیتے ہوں تو ایسے شیعوں کے کفر میں اختلاف ہے مگر اُن کے ساتھ بھی پہلے قسم کے شیعوں والا معالہ کرنا بہتر ہے۔
اور جو شیعہ صرف حضرت علیؓ کے افضیلت کے قائل ہوں اور مذکورہ بالا عقائدِ کفریہ میں سے کوئی عقیدہ بھی نہ رکھتے ہوں اور صحابہ کرامؓ پر ’’تبرا‘‘ وغیرہ بھی نہ کرتے ہوں ایسے شیعہ مسلمان ہیں مگر امتِ مسلمہ کے اجماعی عقیدہ کے مخالف ہونے کی بناء پر فاسق ضرور ہیں اس قسم کے شیعوں کے ساتھ تعلقات رکھنا اگرچہ جائز اور درست ہے مگر احتراز بہتر ہے، البتہ ان کی اقتداء میں نماز پڑھنا ان کے فسق کی بناء پر مکروہِ تحریمی ہے، لہٰذا ہر قسم کے شیعہ لوگوں کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے احتراز لازم ہے۔ واﷲ سبحانہٗ وتعالیٰ اعلم