کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ وفات پاجانے کے بعد ایک شخص کے اعمال رُک جاتے ہیں، سوائے (۱) نیک عمل کے جو اس شخص نے اپنی زندگی میں کیا جیسے مدرسہ یا مسجد وغیرہ جس سے لوگوں کو فیض پہنچے۔(۲) نیک اور بہتر اولاد جو ایسے نیک اعمال کرے جس سے والدین کو ثواب پہنچے مرنے کے بعد۔
ایک خطبے میں حال ہی میں مَیں نے سنا کہ ہم غلط خیال کرتے ہیں اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن مردے کیلئے پڑھنے سے اس کو کوئی فائدہ ہوتا ہے، کیا یہ درست ہے؟ یا قریبی رشتے داروں کے اس طرح کے اعمال سے بھی مردے کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا؟
واضح ہو کہ اگر کوئی آدمی قرآن وغیرہ پڑھ کر کسی مردے کو بخش دے تو اس کا ثواب مردے کو پہنچتا ہے اور ایسا ہی کرنا چاہئے اور آپ نے جو سنا ہے وہ درست نہیں اس پر اعتقاد رکھنے سے احتراز لازم ہے۔
وفی الدّر: وفی الحدیث من قرء الاخلاص احد عشر مرۃ ثم وہب اجرہا للاموات اعطی من الاجر بعدد الاموات۔
وفی الرّد: صرح علمائنا فی باب الحج عن الغیر بان للانسان ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلاۃً او صومًا أو صدقۃً أو غیرہا کذا فی الہدایۃ (الٰی قولہ) الأفضل لمن یتصدق نفلًا أن ینوی لجمیع المؤمنین والمؤمنات لأنہا تصل الیہم ولا ینقص من أجرہ شی۔ اھـ ہو مذہب أہل السنۃ والجماعۃ۔ (ج۲، ص۴۴۳) واﷲ اعلم بالصواب