کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اکثر ہم لوگ قرآن خوانی کرتے ہیں اور اس کے کھانے میں بریانی وغیرہ بھی رکھتے ہیں تروتازگی کیلئے، تو کیا یہ عمل صحیح ہے؟
واضح ہو کہ قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا عبادات میں سے اہم ترین اور زیادہ باعثِ اجر و ثواب عبادت ہے لیکن شریعت نے اس کی کوئی خاص صورت متعین نہیں فرمائی بلکہ آداب و شرائط ملحوظ رکھتے ہوئے قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا باعثِ ثواب ہی ثواب ہے، البتہ موجودہ دور میں اجتماعی قرآن خوانی کی جو صورت عام معاشرہ میں لوگوں نے متعین کر رکھی ہے، ایصالِ ثواب اور ختمِ قرآن کریم اور اس کے کھانے پینے کا یہ مخصوص طریقہ قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر سے ثابت نہیں اس لئے یہ بدعت ہے اور مزید یہ کہ اس میں ،بدعت ہونے کے علاوہ کئی ایک خرابیاں بھی ہیں اور وہ یہ کہ دوست و رشتہ دار تو عموماً محض شکایت سے بچنے کیلئے آتے ہیں، ایصالِ ثواب مقصود نہیں ہوتا، حتیٰ کہ اگر کوئی دوست یا عزیز اپنے گھر بیٹھ کر پورا قرآن ختم کرکے بخش دے تب بھی اہلِ میت راضی نہیں ہوتے اور اگر راضی ہوجائیں تب بھی نہ آنے کی شکایت باقی رہتی ہے اور اگر اہلِ میت کے یہاں آکر تھوڑی دیر بیٹھ کر حیلہ بہانہ بناکر چلا جائے تو شکایت سے بچ جاتا ہے اور جو عمل ایسے مقاصد کیلئے ہو اس پر کچھ ثواب نہیں ملتا اور جب پڑھنے والا ہی ثواب سے محروم رہا تو مردے کو کیا بخشے گا؟
اب رہا فقراء اور مساکین کا آنا تو یہ حضرات اکثر اس لئے آتے ہیں کہ کچھ نہ کچھ ملے گا، اگر انہیں پہلے سے ہی معلوم ہوجائے کہ ملے گا کچھ بھی نہیں ،صرف پڑھنا ہی پڑھنا ہے تو ہرگز ایک بھی نہیں آئے گا، اس سے معلوم ہوا کہ ان حضرات کا آنا بھی محض اس توقع سے ہوتا ہے کہ کچھ مل جائے اور جب ان کا پڑھنا ہی غرض کیلئے ہوا تو اس کا ثواب کہاں سے ملے گا اور مردے کو کیا بخشیں گے؟ اسی طرح ایسے مواقع میں مردوں اور عورتوں کا اختلاط بھی ہوتا ہے جو کہ ناجائز ہے اس لئے ایسی بدعات اور خرافات سے اجتناب ضروری ہے۔
تاہم اگر اپنے طور پر پورے گھر والے قرآن کریم پڑھ کر یا دوسرے رشتہ دار بھی اپنے اپنے مقام سے پڑھ کر میت کو بخش دیں،کسی ایک جگہ جمع ہونے اور وقت کی تعیین کو ضروری نہ سمجھیں تو یہ جائز ہے اور خلوص کے ساتھ اپنے طور پر انفرادی حیثیت سے فقط تین مرتبہ ’’قل ہوا اللہ احد الخ‘‘ پڑھ کر ایصالِ ثواب کرنا مروّجہ قرآن خوانی سے بہرحال بہتر ہے، اس لئے ضروری ہے کہ قرآنِ کریم کی تلاوت جیسے عظیم اور مہتم بالشان عمل کو بدعات و خرافات سے پاک کرکے خلوص کے ساتھ کریں اگرچہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔
فی مرقاۃ المفاتیح: عن عائشۃؓ قالت: قال رسول اﷲ ﷺ: ’’من أحدث فی امرنا ہذا ما لیس منہ فہو ردٌّ‘‘ متفق علیہ۔ (ج۱، ص۳۶۵)-
وفیہ ایضًا: وفی صحیح مسلم: ’’من عمل عملًا‘‘ أی أتی بشیء من الطاعات أو بشیء من الاعمال الدنیویۃ والأخرویۃ سواء کان محدثا أو سابقا علی الأمر لیس علیہ امرنا أی: وکان من صفہ أنہ لیس علیہ اذننا بل أتی بہ علی حسب ہواہ فہو رد أی: مردود غیر مقبول، فہذہ الراویۃ أعم، وھذا الحدیث عماد فی التمسک بالعروۃ الوثقی۔ (ج۱، ص۳۶۶)-
وفی رد المحتار: ویکرہ اتخاذ الطعام فی الیوم الأوّل والثالث وبعد الاسبوع (الٰی قولہ) واتخاذ الدعوۃ لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقرّاء لختم القرآن أو لقراء ۃ سورۃ الانعام۔ الخ والحاصل ان اتخاذ الطعام عند قراء ۃ القرآن لأجل الاکل یکرہ۔ وفیہا من کتاب الاستحسان وإن اتخذ طعاما للفقراء کان حسنًا۔ اھـ واطال فی ذٰلک فی المعراج وقال: وہذہ الأفعال کلہا للسمعۃ والریاء فیحترز عنہا لانہم لا یریدون بہا وجہ اﷲ تعالٰی۔ اھـ (ج۲، ص۲۴۰)-
وفیہ ایضًا: ولہذا اختاروا فی الدعا: اللّٰہم اوصل مثل ثواب ما قرأتہ إلی فلان، وأما عندنا فالواصل الیہ نفس الثواب وفی البحر: من صام أو صلی أو تصدق وجعل ثوابہ لغیرہ من الاموات والاحیاء جاز، ویصل ثوابہا الیہم عند اہل السنۃ والجماعۃ کذا فی البدائع۔ (ج۲، ص۲۴۳)-
وفیہ ایضًا: فالحاصل ان ماشاع فی زماننا من قراء ۃ الاجزاء بالاجرۃ لا یجوز لان فیہ الأمر بالقراء ۃ و اعطاء الثواب للاٰمر، والقراء ۃ لأجل المال، فاذا لم یکن للقاری ثواب لعدم النیۃ الصحیحۃ فأین یصل الثواب الی المستأجر و لولا الأجرۃ ما قرء احد لأحد فی ھذا الزمان بل جعلوا القرآن العظیم مکسبا و وسیلۃ الی جمع الدنیا۔ اناللّٰہ وانا الیہ راجعون۔ (الی قولہ) لان ذٰلک یشبہ استئجارہ علی قرأۃ القرآن وذٰلک باطل ولم یفعل ذٰلک احد من الخلفاء۔ اھـ
وفیہ ایضًا: ونقل العلامۃ الحلوانیؒ (إلی قولہ): ولا یصح الاستئجار علی القراء ۃ واھدائہا الی المیت؛ لانہ لم ینقل عن احد من الائمہ الإذن فی ذٰلک: وقد قال العلماء: إن القاری إذا قراء لاجل المال فلا ثواب لہ فأیّ شیء یہدیہ الی المیت۔ (ج۶، ص۵۶۔ ۵۷)-واﷲ اعلم