کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کسی قسم کا کوئی صدقہ جاریہ مثلاً مسجد کی تعمیر، کوئی قرآن پاک کا نسخہ لے کر مسجد میں تلاوت کیلئے رکھ دیتا ہے تو جب تک یہ مسجد اور قرآن پاک باقی رہے گا اس وقت تک تو اس آدمی کو ثواب پہنچتا رہے گا لیکن جب یہ مسجد اور قرآن پاک کا نسخہ شہید ہوجائے تو اس کے بعد بھی اس شخص کو ثواب ملتا ہے یا نہیں؟ مسئلہ کی وضاحت فرمائیں۔ شکریہ
اصولاً ثواب کا جریان اس وقت تک ہوگا جب تک وہ چیز باقی رہے گی، تاہم اگر اللہ تعالیٰ اپنی مراحمِ خسروانہ سے اس کا اجر پھر بھی جاری رکھیں تو یہ اس کی مہربانی اور فضل ہے، جبکہ اس قرآن کریم یا مسجد سے حصولِ تعلیم کے بعد دوسروں کو اس کی ترغیب دینے اور ان امور پر پابند کرنے سے اس اجر و ثواب کا تا یوم القیامۃ باقی رہنا بھی بخوبی واضح ہے۔
وفی الترغیب: وعن واثلۃ بن الأسقعؓ، عن النبی ﷺ قال من سن سنۃ حسنۃ فلہ أجرہا ما عمل بہا فی حیاتہ وبعد مماتہ حتی تترک۔ الخ (ج۱، ص۹۱)واﷲ اعلم