١۔ نور مجسم سے کیا مراد لینی چاہیے؟
٢۔ اولاد اگر جوانی میں داخل ہو کر گناہ کرے تو اس کا گناہ ماں باپ کو ملتا ہے یا نہیں؟ جیسے کہ ثواب ملتا ہے۔
١۔ "نورِ مجسّم" کا اطلاق اگرآپ ﷺ پر اللہ کی طرف سے نزولِ انوار کی کثرت اور مہبطِ انوارِ الٰہیہ ہونے کی بنا پر بطور مبالغہ مثل ’’زیدٌ عدلٌ‘‘ کے کیا جائے تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں،لیکن اگر اس سے مقصودنبی کریم ﷺ سے بشریت کی نفی ہوتو یہ بلاشبہ ایک گمراہ کن اور شرکیہ عقیدہ ہے،جس سے احتراز لازم ہے۔
٢۔ جوانی میں داخل ہونے کے بعد انسان خود عاقل بالغ اور احکامِ شرعیہ کا مکلّف ہو جاتا ہے اور اپنی ذات سے متعلق احکام میں کوتاہی کرنے کاوبال خود اسی پر آئے گا۔ البتہ جن امور کا تعلق والدین کے فرائض کے ساتھ ہے جیسا کہ مناسب رشتہ تلاش کرنا وغیرہ ان میں کوتاہی اور سستی کی بناء پر گناہ ہونے کی صورت میں اس کے ساتھ والدین بھی قابلِ مواخذہ ہوں گے۔
ففی التنزیل العزیز: قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا.(الکہف:110)
وفیہ أیضا: لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا علَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَۚ-وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ.(آل عمران:164)
وفیہ أیضا: وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِؕ-لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًا. (الفرقان:07)
وفیہ أیضا: ﴿وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى، وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَى﴾ (النجم: 39، 40)
وفی مشكاة المصابيح: وعن أبي سعيد وابن عباس قالا: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : «من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه فإذا بلغ فليزوجه فإن بلغ ولم يزوجه فأصاب إثما فإنما إثمه على أبيه»(2/ 939)