کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اپنے مُردوں کو ایصالِ ثواب کیلئے قرآن خوانی کرانا یا اپنے مال میں سے کچھ خیرات کرنا یا ان کے لئے نفل نماز پڑھنا، غرض کسی طرح بھی ایصالِ ثواب کرنا ، آیا عند الشرع جائز ہے؟ اگر جائز ہے تو قرآن و سنت سے کوئی واضح دلیل بیان کرکے ہمیں دلی طمانینت پہنچائیں۔ بینوا توجروا
ایصالِ ثواب کیلئے کوئی خاص تاریخ، وقت اور دن مقرر کرکے جیسے تیجا، ساتواں اور چالیسواں وغیرہ میں مرحوم کے سب اقرباء کا جمع ہونا (جس میں مَردوں اور عورتوں کے اختلاط کے علاوہ دیگر بھی کئی مفاسد اور بدعات پائی جاتی ہیں) شرعاً ثابت نہیں، بلکہ بدعت ہے جس سے احتراز لازم ہے۔
البتہ اگر کسی تاریخ، دن اور وقت کا تقرر نہ ہو اور ہر ایک اپنے طور پر حسبِ استطاعت قرآن کریم کی تلاوت اور نوافل پڑھ کر یا کچھ مال صدقہ وغیرہ کرکے ایصالِ ثواب کرنا چاہے تو یہ طریقہ جائز بھی ہے اور شریعتِ مطہرہ سے ثابت بھی، اور انشاء اﷲ مُردوں کو اس کا اجر بھی ہوگا۔
لہٰذا ایصالِ ثواب کے سلسلے میں مروّجہ بدعات و رسومات سے احتراز کرنا لازم اور ضروری ہے۔
فی الدر: وفی الحدیث: من قرأ الإخلاص أحد عشر مرۃ ثم وہب أجرہا لِلأموات أعطی من الأجر بعَدَد الأموات وقال الشامی تحت ھٰذہ العبارۃ: من دخل المقابر فقرأ سورۃ یٰسین خفف اﷲ عنہم یومئذ وکان لہ بعدد من فیہا حسنات۔
وفیہ أیضًا: صرح علماؤ نافی باب الحج عن الغیر بأن للانسان أن یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلاۃ أو صومًا أو صدقۃ أو غیرہا کذا فی الہدایۃ: بل فی زکاۃ التاتارخانیۃ عن المحیط الأفضل لمن یتصدق نفلًا أن ینوی لجمیع المؤمنین والمؤمنات لأنہا تصل الیہم ولا ینقص من أجرہ شیٔ۔ اھـ ھو مذہب أھل السنۃ والجماعت۔ الخ (ج۲، ص۲۴۲ تا ۲۴۳)- واﷲ اعلم