ادیان متفرقہ

قرآن خوانی اور ایصال ثواب - نماز جنازہ کے بعد دعاء

فتوی نمبر :
58678
| تاریخ :
عبادات / نوافل عبادات / ادیان متفرقہ

قرآن خوانی اور ایصال ثواب - نماز جنازہ کے بعد دعاء

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں کہ:
(۱) ہمارے علاقے میں میت کے پیچھے گھر والے دوست وغیرہ ایصالِ ثواب اور ختم قرآن پاک کیلئے لوگوں کو اکٹھا کرکے اجتماعی ختم کرتے ہیں اور ختم کرنے والوں کو چائے، مٹھائی، یا کھانا کھلاتے ہیں یا کبھی نقدی رقم بھی دیتے ہیں، کھانا، پینا یا رقم لینا درست ہے یا نہیں؟
(۲) بیمار کی صحتیابی کیلئے یا کسی چیز کے خریدنے کے بعد اس کے تبرک کیلئے یا کسی مکان، مشینری وغیرہ کی افتتاحی تقریب میں، ختم قرآن کے موقع پر کھانا پینا اس کا کیا حکم ہے؟
(۳) میت کی فوتگی کے پہلے دن اس کے ایصالِ ثواب کیلئے اپنے ورثاء یا دوسرے عزیز و اقارب یا دوستوں کی طرف سے صدقہ و خیرات یعنی چاول وغیرہ پکاتے ہیں پہلے دن کا کھانا کیسا ہے؟
(۴) ہمارے علاقے میں ماہِ صفر کے آخری بدھ کو لوگ چُوری خیرات کرتے ہیں اور دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ اس دن نبی علیہ السلام صحتیاب ہوئے تھے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ازواجِ مطہرات نے چُوری کی تھی اس لئے ہم کرتے ہیں، اس کا ثبوت کوئی دینی کتابوں میں موجود ہے؟
(۵) مسجد کی چیزیں مثلاً پنکھا، پرانی چٹائی یا اور کوئی چیز کی قیمت ادا کئے بغیر استعمال کرنا درست ہے یا نہیں؟
(۶) نمازِ جنازہ کے فوراً بعد مختصر بیان کرکے دعا کرنا یا بغیر اس کے اجتماعی دعا کرنا کیسا ہے؟ ان دونوں صورتوں کے حکم میں کچھ فرق ہے یا نہیں؟
(۷) بینک میں نوکری، اسٹیٹ لائف انشورنس میں ملازمت کرنا اور اس میں رقم ڈالنا کیسا ہے؟
قرآن و سنت کی روشنی میں مسائل کی وضاحت فرمائیں۔ شکریہ! ٭

(۲) قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر سے اس کا کوئی ثبوت نہیں، البتہ اگر کوئی غیر ضروری سمجھتے ہوئے اس کا اہتمام کرلے تو اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔
(۳) اوّلاً تو قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر سے اس دعوت کا ثبوت نہیں اور پھر آج کل عوام کے اسے ضروری قرار دینے کی بناء پر، یہ بدعت قبیحہ میں داخل ہوکر ناجائز ہوچکی ہے، نیز اگر یہ دعوت میت کے مال سے کی جائے تو اس سے اس کی قباحت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے، لہٰذا اس قسم کی دعوت سے احتراز کرنا ضروری ہے۔ ٭


الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا عبادات میں سے اہم ترین عبادت اور زیادہ باعثِ اجر و ثواب ہے لیکن شریعت نے اس کی کوئی خاص صورت متعین نہیں فرمائی بلکہ آداب و شرائط ملحوظ رکھتے ہوئے قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا باعثِ ثواب ہی ثواب ہے۔
البتہ موجودہ دور میں اجتماعی قرآن خوانی کی جو صورت عام معاشرہ میں لوگوں نے متعین کررکھی ہے، ایصالِ ثواب اور ختم قرآنِ کریم کا یہ طریقہ قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر سے ثابت نہیں اس لئے یہ بدعت ہے اور مزید یہ کہ اس میں بدعت ہونے کے علاوہ کئی ایک خرابیاں بھی ہیں اور وہ یہ کہ دوست، رشتہ دار تو عموماً محض شکایت سے بچنے کیلئے آتے ہیں، ایصالِ ثواب مقصود نہیں ہوتا، حتیٰ کہ اگر کوئی دوست یا عزیز اپنے گھر بیٹھ کر پورا قرآن ختم کرکے بخش دے تب بھی اہل میت راضی نہیں ہوتے اور اگر راضی ہو بھی جائیں تب بھی نہ آنے کی شکایت باقی رہتی ہے، اور اگر اہلِ میت کے یہاں آکر، تھوڑی دیر بیٹھ کر اور حیلہ بہانہ بناکر جلد چلا جائے تو شکایت سے بچ جاتا ہے، اور جو عمل ایسے مقاصد کیلئے ہوں اس پر کچھ ثواب نہیں ملتا، اور جب پڑھنے والا ہی ثواب سے محروم رہا تو مردے کو کیا بخشے گا؟
اب رہا فقراء اور مساکین کا آنا تو یہ حضرات اکثر اس لئے آتے ہیں کہ کچھ نہ کچھ ملے گا اگر انہیں پہلے سے ہی معلوم ہوجائے کہ ملے گا کچھ بھی نہیں صرف پڑھانا ہی پڑھنا ہے تو ہرگز ایک بھی نہیں آئے گا، اس سے معلوم ہوا کہ اِن حضرات کا آنا بھی محض اس توقع سے ہوتا ہے کہ کچھ مل جائے گا، اور جب ان کا پڑھنا ہی دنیوی غرض کیلئے ہو تو اس کا ثواب کہاں سے ملے گا اور مردے کو کیا بخشیں گے، اسی طریقہ سے ایسے مواقع میں مردوں اور عورتوں کا باہم اختلاط بھی ہوتا ہے جو کہ ناجائز ہے اس لئے ایسی بدعات اور خرافات سے اجتناب ضروری ہے۔
تاہم اگر اپنے طور پر پورے گھر والے قرآنِ کریم پڑھ کر یا دوسرے رشتہ دار بھی اپنے اپنے مقام سے پڑھ کر میت کوبخش دیں کسی ایک جگہ جمع ہونے اور وقت کی تعیین کو ضروری نہ سمجھیں تو یہ جائز ہے اور خلوص کے ساتھ اپنے طور پر انفرادی حیثیت سے فقط تین مرتبہ ’’قل ہو اللہ احد الخ‘‘ پڑھ کر ایصالِ ثواب کرنا مروّجہ قرآن خوانی سے بہرحال بہتر ہے، اس لئے ضروری ہے کہ قرآنِ کریم کی تلاوت جیسے عظیم اور مہتم بالشان عمل کو بدعات و خرافات سے پاک کرکے خلوص کے ساتھ کریں اگرچہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔ ٭

(۲) قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر سے اس کا کوئی ثبوت نہیں، البتہ اگر کوئی غیر ضروری سمجھتے ہوئے اس کا اہتمام کرلے تو اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔
(۳) اوّلاً تو قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر سے اس دعوت کا ثبوت نہیں اور پھر آج کل عوام کے اسے ضروری قرار دینے کی بناء پر، یہ بدعت قبیحہ میں داخل ہوکر ناجائز ہوچکی ہے، نیز اگر یہ دعوت میت کے مال سے کی جائے تو اس سے اس کی قباحت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے، لہٰذا اس قسم کی دعوت سے احتراز کرنا ضروری ہے۔ ٭

(۴) سوال میں مذکور رسم کا دینی کتابوں میں کوئی ثبوت نہیں بلکہ جُہلاء کی گھڑی ہوئی رسم ہے، لہٰذا اس قسم کی رسومات سے احتراز ضروری ہے۔ ٭

(۵) مسجد اور دیگر اوقاف کی اشیاء اپنے ذاتی استعمال میں لانا شرعاً درست نہیں ، لہٰذا آئندہ کیلئے ان اشیاء کو ذاتی استعمال میں لانے سے پرہیز کیا جائے۔ ٭

(۶) نمازِ جنازہ خود دعا ہے اس لئے اس کے بعد مزید دعا کرنے کاکوئی جواز نہیں بلکہ یہ بدعت کے زمرہ میں آتی ہے اس لئے اس سے احتراز کرنا چاہئے، اور مختصر بیان کے بعد دعا کرنے کا بھی یہی حکم ہے۔ ٭

(۷) موجودہ بینکوں اور انشورنس کمپنیوں کا بیشتر کاروبار سودی اور ناجائز ہوتا ہے اس لئے ان اداروں میں ملازمت کرنے یا رقم جمع کروانے سے احتراز چاہئے، تاہم ان اداروں میں ملازمت کرتے ہوئے سودی معاملات براہِ راست خود کرنے پڑتے ہوں ت ایسی ملازمت اور اس پر ملنے والی تنخواہ ناجائز اور حرام ہیں جس سے احتراز لازم ہے۔ ٭

مأخَذُ الفَتوی

٭ وفی رد المحتار: واتحاذ الدعوۃ لقراءۃ القرآن وجمع الصلحاء والفقراء للختم قراءۃ سورۃ الأنعام او الاخلاص والحاصل ان اتخاذ الطعام عند قراءۃ القرآن لأجل الاکل یکرہ وفیہا من کتاب الاستحسان وإن اتخذ طعامًا للفقراء کان حسنًا۔ اھـ واطال فی ذلک فی المعراج وقال: وہذہ الأفعال کلہا للسمعۃ والریاء فیحترز عنہا لانہم لا یریدون بہا وجہ اللہ تعالٰی۔ اھـ (ج۲، ص۲۴۰)
وفیہ ایضًا: فالحاصل أن ما شاع فی زماننا من قراءۃ الأجزاء بالاجرۃ لا یجوز لأن فیہ الأمر بالقراءۃ وإعطاء الثواب للأمر، والقراءۃ لأجل المال، فإذا لم یکن للقاریٔ ثواب لعدم النیۃ الصحیحۃ فأین یصل الثواب الی المستأجر ولولا الأجرۃ ما قراء احد لأحد فی ھذا الزمان بل جعلوا القرآن العظیم مکسبا ووسیلۃ الی جمع الدنیا، انا اللہ وإنا الیہ راجعون (الی قولہ) لأن ذٰلک یشبہ استئجارہ علی قراءۃ القرآن وذٰلک باطل ولم یفعل ذٰلک احد من الخلفاء۔ اھـ
وفیہ ایضًا ونقل العلامۃ الحلوانی إلی قولہ: ولا یصح الاستئجار علی القراءۃ واہدائہا الی المیت، لأنہ لم ینقل عن احد من الأئمۃ الإذن فی ذٰلک؛ وقد قال العلماء: إن القاریٔ إذا قراء لأجل المال فلا ثواب لہ فأی شیئ یہدیہ الی المیت۔ (ج۶، ص۵۶،۵۷)۔

٭ وفی الرد: ویکرہ اتخاذ الضیافۃ من الطعام من اہل المیت لأنّہ شرع فی السرور لا فی الشرور، وہی بدعۃ مستقبحۃ: وروی الامام احمد وابن ماجہ باسناد صحیح عن جریر بن عبد اللہ قال ’’کنا نعد الاجتماع الی اہل المیت وصنعہم الطعام من النیاحۃ‘‘۔ اھـ (ج۲، ص۲۴۰)۔

٭ لقولہ علیہ السلام من احدث فی امرنا ہذا ما لیس منہ فہو رد۔ (مشکوٰۃ: ج١، ص٢٧)۔

٭ وفی الہندیۃ: ولا یحمل الرجل سراح المسجد الی بیتہ۔ اھـ (ج١، ص١١٠)۔

٭ وفی المرقاۃ: ولا یدعوا للمیّت بعد صلوٰۃ الجنازۃ لانہ یشبہ الزیادۃ فی صلوٰۃ الجنازۃ۔ اھـ (ج۲، ص۲۱۹)۔

٭ وفی المسلم: عن جابر لعن رسول اللہ ﷺ اٰکل الرباء وموکلہ وکاتبہ وشاہدیہ وقال ہم سواء۔ اھـ (ج٢، ص٢٧) واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
مفتی سیف اللہ جمیل رحمہ اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 58678کی تصدیق کریں
1     1219
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • صدقہ جاریہ کا ثواب کب تک ملتا رہے گا؟

    یونیکوڈ   ادیان متفرقہ 0
  • قرآن خوانی اور ایصال ثواب - نماز جنازہ کے بعد دعاء

    یونیکوڈ   ادیان متفرقہ 1
  • ایصالِ ثواب کا درست طریقہ

    یونیکوڈ   ادیان متفرقہ 0
  • ایصالِ ثواب بذریعہ تلاوتِ قرآن کریم

    یونیکوڈ   ادیان متفرقہ 0
  • قرآن خوانی کی رسم کا عمل صحیح ہے؟

    یونیکوڈ   ادیان متفرقہ 0
  • کسی کے دین اور مذہب کو گالی دینا

    یونیکوڈ   ادیان متفرقہ 0
  • عیسائیوں کو مشرک کہا جائے گا یا کافر؟

    یونیکوڈ   ادیان متفرقہ 0
Related Topics متعلقه موضوعات