السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
مفتیان کرام سے سوال یہ ہےکہ لڑکا اور لڑکی نکاح سے پہلے حق مہر خود ہی آپس میں طے کرلیں, مثلاً لڑکا اور لڑکی نے آپس میں طے کیا کہ حق مہر 80 ہزار ہوگا اور انہوں نے یہ بھی ارادہ کیا کہ ہمارے ماں باپ , بھلے نکاح کے وقت حق مہر 80 ہزار سے کم رکھیں یا اس سے زیادہ رکھیں , ہمارے درمیان جو 80 ہزار طے ہوا ہے وہی حق مہر ہوگا , ایسا کرنے کی وجہ یہ تھی کہ لڑکے کی خواہش تھی کہ لڑکی اپنی مرضی سے اپنا حق مہر طے کرے , تو لڑکی نے بڑے اصرار کے بعد 80 ہزار طے کیا اور دونوں کے درمیان بنا کسی مشکل کے 80 ہزار روپے طے ہو چکا ہے اور لڑکا اور لڑکی یہ نہیں چاہتے کہ ان دونوں کے درمیان جو حق مہر طے ہوا ہے وہ ان کے والدین کو پتہ چلے , کیونکہ دونوں کا گھرانہ دنیا دار ہے اور آجکل کی روایت کے مطابق لڑکے والے چاہتے ہیں کم سے کم حق مہر طے ہو اور لڑکی والے چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ حق مہر طے کیا جائے , تو لڑکا اور لڑکی اسی وجہ سے یہ بات نہیں بتانا چاہتے اپنے گھر والوں کو , ان دونوں گھرانوں میں کوئی بداخلاقی اور بدگمانی پیدا نہ ہوجائے اور آپس میں دونوں گھرانوں کی بات خراب نہ ہو ,
تو لہٰذا تفصیلاً جواب عنایت فرما دیں کہ اگر لڑکا اور لڑکی نے جو طے کرلیا 80 ہزار , اور نکاح کے وقت اس سے زیادہ یا اس سے کم طے ہوا , تو پھر اگر لڑکا لڑکی کو 80ہزار جو انہوں نے آپس میں پہلے سے طے کیے ہوئے تھے وہی حق مہر دے تو اس میں کوئی گناہ تو نہیں ؟ یا پھر نکاح میں اس سے کوئی کراہت یا خلل تو پیدا نہیں ہوگا ؟
واضح ہو کہ مہر کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو ایک بار متعین ہونے کے بعد تبدیل نہ ہوسکے ، بلکہ مہر میاں بیوی کی رضامندی سے ہی طے ہونا چاہیئے ، سوال میں مذکور میاں بیوی کے والدین میں سے کوئی ان کے مقرر کردہ حق مہر سے کم یا زیادہ لکھوادے , تو میاں بیوی بعد میں آپس کی رضامندی سے اس کو کم یا زیادہ کرسکتے ہیں , شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔