میں عبد المطلب کا بیٹا ہو میری ایک بہن ہےجو کہ ہماری باپ کی اولاد نہیں ہیں ہمیں اور (ماسی کے گھر)والوں نے دیی تھی تو ھم نے اس کی پرورش کی .تو اب اس کی فارم ب بناتے ہے تو باپ کی جگہ پر عبد المطلب لکھ سکتے ہے۔اگر نہیں تو کوئی ایسا طریقہ بتائے جس کے ذریعہ باپ کا نام عبدالمطلب لکھ سکے ۔ایک عالم نے بتایا کہ اگر باپ کے نام کے ساتھ متبنی لفظ لکھ لے تو پھر جائز ہے۔
شریعتِ مطہرہ میں لے پالک اور منہ بولے بیٹے کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اور کسی کو منہ بولا بیٹا بنانے سے وہ حقیقی بیٹا نہیں بن جاتا اور نہ ہی اس پر حقیقی اولاد والے احکام جاری ہوتے ہیں، البتہ گود میں لینے والے کو پرورش ، تعلیم وتربیت اور ادب واخلاق سکھانے کا اجرو ثواب ملے گا، جاہلیت کے زمانہ میں یہ دستور تھا کہ لوگ لے پالک اور منہ بولے اولاد کو حقیقی اولاد کا درجہ دیتے تھے ، لیکن اسلام نے اس تصور ورواج کو ختم کرکے یہ اعلان کردیا کہ منہ بولے اولاد حقیقی اولاد نہیں ہوسکتے، اور لے پالک اور منہ بولے اولاد کو ان کے اصل والد کی طرف منسوب کرنا ضروری ہے۔
اس لیے سائل کے والد مذکور بطورِ والد اس بچی کے کاغذات (documents ) میں اپنا نام نہیں لکھ سکتا، کیوں کہ لے پالک بچی کو حقیقی والد کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرنا شرعا جائز نہیں ہے, چاہے حقیقی والد کا علم ہو یا نہ ہو، البتہ وہ اس بچی کاغذات وغیرہ بناتے وقت اپنا نام بطورِ سرپرست (Guardian) لکھوا سکتا ہے۔
قال اللہ سبحانہ وتعالیٰ :
﴿ادعوھم لآبائھم ھو اقسط عند اللہ۔﴾(سورة الأحزاب:05)
صحیح مسلم:
عن أبي ذرؓ، أنہ سمع رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم یقول: "لیس من رجل ادعی لغیر أبیہ، وہو یعلمہ إلا کفر، ومن ادعی مالیس لہ، فلیس منا ولیتبوأ مقعدہ من النار".(4/1805)
والدین کا علم نہ ہونے کی صورت میں بچہ کی ولدیت کے خانہ میں کس کا نام لکھا جائے؟
یونیکوڈ لے پالک کے احکام 0