السلام علیکم!
میرا سوال یہ ہے کہ علماءِ دیوبند حق پر ہیں یا بریلوی حضرات ؟
میں نے بہت سے حضرات سے سنا ہے کہ علماءِ دیوبند جیسے مولانا محمد قاسم نانوتوی اور مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں گستاخی کی ہے اور اللہ پاک پر جھوٹ بولنے کی تہمت لگائی ہے۔
میں بہت پریشان ہوں کہ کون حق پر ہے؟ کیا علماءِ دیوبند نے ایسا کیا ہے؟
واضح ہو کہ مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی مرحوم نے اپنے کتابچہ ’’حسام الحرمین‘‘ اور اسی طرح دیگر کتب میں اکابرینِ دیو بند ، خصوصاً اس وقت کی اہم شخصیات حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ ، جو ردِ بدعت میں پیش پیش تھیں، ان کی عبارات کو لے کر لفظی ومعنوی تحریف کرکے اور ان کے معنیٰ بگاڑ کر ان محبتِ رسولﷺ اور اطاعتِ خداوندی میں ڈوبی شخصیات پر یہ تہمت لگائی کہ معاذ اللہ انہوں نے اپنی کتابوں میں خدا کی طرف جھوٹ کی نسبت کی ہے اور سرورِ عالمﷺ کی گستاخی کی ہے ، انہیں رسالوں کو لے کر بعد کے ان کے متبعین حضرات ، بلا تحقیق علماءِ دیوبند اور ان کے اکابرین کی طرف انہیں اتہامات کو منسوب کرتے رہے ہیں، جبکہ یہ اتہامات اس وقت جب علماءِ مدینہ کو پہنچے ، تو انہوں نے اس بارے میں علماءِ دیوبند سے استفسار کیا ، جس کے جواب میں علماءِ دیوبند کی ترجمانی کرتے ہوئے حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ نے اپنے عقائد کی وضاحت کرتے ہوئے ’’المہند علی المفند‘‘ کے نام سے موسوم رسالہ لکھ کر علماءِ مدینہ ، شام ، مصر وغیرہ کی طرف ارسال کیا ، جسے پڑھنے کے بعد انہوں نے ان عقائد کو کما حقہ اہلِ سنت و الجماعت اور جمہور امتِ مسلمہ کے درست عقائد قرار دے کر اس رسالہ پر اپنی تصدیقات لکھیں ، ان تصدیقات میں سے علماءِ مدینہ کی ایک تصدیق کی عبارت درج کی جاتی ہے، ملاحظہ ہو :
فنقول قولا شاملا لجمیع ہذه الرسالۃ المشتملۃ علی ستۃ و عشرین جوابا التی قدمہا إلینا العلامۃ الفاضل خلیل أحمد للنظر فیہا و تأمل ما فیہا من الکلام أنا لم نجد فیہا قولا یوجب الکفر و الابتداع و لا ما ینتقد علیہ انتقادا اھ
ترجمہ : اب ایک قولِ عام بیان کرتے ہیں ، جو اس تمام رسالہ کے ان چھبیس جوابات پر مشتمل ہے ، جس کو علامہ فاضل شیخ خلیل احمد نے ، اس کو دیکھنے اور اس کے احکامات میں غور کرنے کے لۓ ہمارے سامنے پیش کیا ہے وہ یہ کہ واقعی ہم نے ایک بات بھی اس میں ایسی نہیں پائی ، جس سے کفر یا بدعتی ہونا لازم آئے۔ (المہند علی المفند یعنی عقائدِ علماءِ اہلِ سنت دیوبند ، ص: ۱۲۲)۔
لہٰذا سائل کو چاہیۓ کہ ان جھوٹے الزامات (جن کے کذب اور خلافِ واقعہ ہونے کا اقرار اس وقت کے علماءِ عرب و عجم کر چکے ہیں) کو سن کر اور پڑھ کر پریشان ہونے کے بجائے کسی اہلِ سنت و الجماعت سے منسلک عالمِ دین سے وابستہ رہ کر دینی مسائل میں راہ نمائی لے کر اس کی روشنی میں زندگی گزارنے کی کوشش کرے۔
حضرت تھانویؒ، حضرت گنگوہی اور حاجی امداد اللہ صاحبؒ کو بریلوی کہہ کر ان کی کتابیں پڑھنے سے منع کرنا
یونیکوڈ اکابر حضرات" 1