السلام علیکم! صرف تبلیغ سے اصلاح ہوتی ہے یا بیعت ضروری ہے؟ طالبِ علم دین کیلئے بیعت کرنا کیسا ہے؟بعض بزرگ حضرات آج کل گناہوں کی وجہ سے بیعت کو ضروری سمجھتے ہیں، طالبِ علم کی اصلاحِ نفس کیسے ہوگی،؟علمی استعداد کیلئے کچھ عمدہ مشورہ ارشاد فرمائیں۔شکریہ!
دعوتِ تبلیغ کے کام میں لگنے اور کسی متبع سنت شیخ کی بیعت کرنے وغیرہ سے یعنی دونوں طرح اصلاح ہو جاتی ہے، البتہ کسی کامل متبع سنت شیخ سے بیعت کرنا ایک مستحب عمل ہے اور شیخ کی توجہ سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے، اس لئے دعوتِ تبلیغ کے کام کے ساتھ ساتھ کسی متبع سنت شیخ سے بھی بیعت کا تعلق جوڑنا چاہیے۔
جبکہ طالبِ علم کو ہمارے اکابر بیعت نہیں کرتے، فقط مجالس میں حاضری کا کہتے ہیں تاکہ تعلیمی حرج نہ ہو، لہٰذا طالبِ علم دورانِ تعلیم کسی متبع سنت شیخ سے تعلق ضرور رکھے، تاہم باقاعدہ بیعت نہ کرے، جب تعلیم سے فارغ ہو جائے تو تب بیعت کرے۔