کیا فرماتے ہیں مفتیانِ عظام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ کوہاٹ کے مضافات میں ہمارا قبیلہ رہتا ہے جس کا نام جبی بنگش ہے، جب کوئی شخص فوت ہو جائے تمام لوگ سارے کام اتفاق سے بغیر کسی معاوضے کے خود بخوشی انجام دیتے ہیں، قبرکو کھودنے کے لیے کچھ احباب نکل جاتے ہیں، اور کچھ احباب پہاڑ سے پتھر لاتے ہیں، یہاں تک کہ قبر کےلئے وہ پتھر جو کہ سلیپ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، وہ بھی مل کر بغیر کسی معاوضے کے لائے جاتے ہیں، غرض اس قبیلے کا اتفاق بہت مشہور ہے یہ بات پرانے زمانے سے مشہور ہے، اس قبیلے کے لوگ کراچی میں بھی مقیم ہیں تو اسی طرح میت گاؤں میں ہو یا کراچی میں تو دونوں صورتوں میں لوگ کراچی میں میت کے ورثاء کیلئے تعزیت کرتے ہیں، اس کا طریقہ کار پرانے زمانے سے یہ طے ہے کہ کراچی میں میت ہو تو اکثر لوگ میت کو گاؤں لے جاتے ہیں اور یہاں کراچی میں مقیم لوگ فوراً پہنچ جاتے ہیں، لیکن جو نہ پہنچ سکے وہ احباب آنے والے اتوار کو تعزیت کیلئے آتے ہیں،مفتی صاحبانِ لوگوں کیلئے مسئلہ یہ ہے کہ جو کراچی میں مقیم ہیں، لیکن عرف میں مسافر ہیں، سب نوکریاں کرتے ہیں، اگر پہلے دن نہ پہنچ سکے تو دوسرے اور تیسرے دن اتوار نہ ہو تو نوکری خراب اور ٹوٹ جانے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے، اس وجہ سے لوگ تعزیت کیلئے اتور کو ہی آتے ہیں اور یہ قوم کے بڑوں نے بھی فیصلہ کیا ہے کہ اگر چہ اتوار (چھٹی کی وجہ سے) تیسرے دن کے بعد کیوں نہ ہو یہ اتفاق اس وقت سے چلی آ رہا ہے، جب قبیلہ میں نہ حافظ صاحبان تھے اور نہ مبلغین حضرات (تبلیغ والے)تھے ا ور نہ علماء کرام تھے ، اور اب اللہ تعالیٰ کا اس قبیلے پر بڑا احسان ہوا ہے علماء کرام بھی کافی سارے ہیں اورحفاظ کرام اور مبلغین حضرات تو لاتعداد ہیں، اب بات یہ ہے کہ ان حضرات علماء کرام صاحبان کا کہنا ہےکہ تیسرے دن کے بعد اسلام میں تعزیت کیلئے جانا منع ہے اور یہ ہمارے علماء کرام سختی سے منع فرما رہے ہیں، اگر ہم تعزیت کیلئے نہیں جاتے تو ہمارا اتفاق خراب ہوتا ہے اور اگر اتوار کے علاوہ کسی اور دن جاتے ہیں نوکری کا خطرہ ہے کہ چلی نہ جائے ، مفتیان کرام سے گذارش ہے کہ اتحاد اور اتفاق کا خیال رکھتے ہوئے کوئی درمیان کا راستہ نکال دیں کہ جس میں اتفاق بھی برقرار رکھی جا سکے اور نوکری والوں کا بھی خیال رکھا جاسکے۔ دوسری بات یہ ہے کہ میت کے ورثاء بھی نوکری والے ہو تے ہیں، اس ساری تفصیل کے بعد ہم سب باتوں کا لحاظ رکھتے ہوئے کیا ہم تیسرے دن کے بعد تعزیت کیلئے اتوار کو ورثاء کے ہاں جاسکتے ہیں یا نہیں جاسکتے؟ شریعت اسلامی فقہ حنفی میں ہم کواجازت دی جاتی ہے یا نہیں؟ فقہ حنفی کے مطابق مدلل جواب عنایت فرمائیں۔
واضح ہو کہ تعزیت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ میت کی تدفین سے پہلے یا بعد میں میت کے گھر والوں کو تسلی دی جائے، ان کی دلجوئی کی جائے، ان کو صبر کی تلقین کی جائے، اور میت کے حق میں دعائے مغفرت کی جائے، البتہ اس معاملے میں اتنی بات سمجھنی چاہیے کہ تمام رشتہ داروں کا یا کسی خاندان کے تمام افراد کا اہل میت سے تعزیت کر نالازم نہیں ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص دوری یا کسی مجبوری کی بناپر خود حاضر نہ ہو سکے ، تو اس کے لیے تین دن کے بعد یا بذریعہ خط و کتابت یا فون کے تعزیت کرنا جائز ہے، لہذا صورت مسئولہ میں اگر کراچی میں مقیم رشتہ داروں وغیرہ کے لیے کسی عذر اور مجبوری کی وجہ سے کراچی میں رہنے والے اہلِ میت سے تین دن کے اندر تعزیت کرنا ممکن نہ ہو تو ان کے لیے تین دن کے بعد کسی بھی اتوار کو حسب سہولت و موقع تعزیت کرنا جائز ہے، البتہ اگر کسی موقع پر اہلِ میت کراچی میں موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں بھی تین دن کے بعد دیگر رشتہ داروں کے لیے حسب سہولت و موقع جاکر تعزیت کرنا جائز ہے اور بذریعہ خط و کتابت یا فون کے اہل میت کے سا تھ بھی تعزیت کی جاسکتی ہے۔
كما في سنن الترمذي: عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من عزى مصابا فله مثل أجره اھ (2/ 376)
وفي حصن حصين: وكتب النبي الى معاذ بن جبل رضى الله تعالى عنه في ابن له (إلى قوله ) والسلام - اھ (منزل:5)
وفى حاشية ابن عابدين: ويؤيده خبر الصحيحين «ما يصيب المسلم من نصب ولا وصب ولا هم ولا حزن، ولا أذى ولا غم حتى الشوكة يشاكها إلا كفر الله بها من خطاياه» اھ(2/ 240)
وفیه أیضاً: (قوله إلا لغائب) أي إلا أن يكون المعزي أو المعزى غائبا فلا بأس بها جوهرة قلت: والظاهر أن الحاضر الذي لم يعلم بمنزلة الغائب كما صرح به الشافعية (2/ 241)
وفي الفتاوى الهندية: ووقتها من حين يموت إلى ثلاثة أيام ويكره بعدها إلا أن يكون المعزي أو المعزى إليه غائبا فلا بأس بها اھ (1/ 167)
وفي الموسوعة الفقهية: إلا إذا كان أحدهما (المعزى أو المعزي) غائبا، فلم يحضر إلا بعد الثلاثة، فإنه يعزيه بعد الثلاثة(12/ 288)