السلام علیکم
میرا سوال یہ ہےکہ میں ایک ٹرانسپورٹ کمپنی میں کام کرتا تھا، جو افغانستان میں نیٹو فورس کا سامان بھیجواتے تھے ، لیکن میرا دل نہیں کرتا تھا کہ میں یہاں کام کروں، کیونکہ وہ وہاں افغانستان میں جنگ کر رہے تھے ، اور ان کا سامان پاکستانی حکومت اور فوج نے اجازت دے رکھی تھی، کیونکہ پاکستان نے راستے دے رکھے تھے، جس کی وجہ سے پاکستان کو بھی کافی نقصان ہوا امریکہ کی وجہ سے ،اب امریکہ کو افغانستان میں شکست ہو گئی ہے، لیکن میں بے چین رہتا ہوں ، کہ کہیں میں بھی تو گناہگار نہیں، کیونکہ ہم بھی اس کمپنی میں کام کرتے تھے ، جو ٹرانسپورٹ کی سروس دیتی تھی افغانستان میں ، کیا اس میں ریاست ، فوج اور حکومت بھی گناہگار ہے، برائے مہربانی آپ اس کا جواب دے دیں ؟
سائل نے وضاحت نہیں کی کہ وہ مذکور کمپنی میں کون سی ملازمت کرتا تھا، تا کہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم اگر سائل مذکور کمپنی میں ایسی ملازمت کرتا تھا، کہ جس کا تعلق براہ راست تعاون علی المعصیت سے نہ ہو (جیسا کہ چوکیدار ، ڈرائیور وغیرہ) تو چونکہ ایسی ملازمت کو اختیار کرنے اور اس سے حاصل شدہ آمدنی کو اپنی استعمال میں لانے کی گنجائش ہے ، اس کی وجہ سے سائل گناہگار بھی نہ ہو گا، البتہ اگر سائل کی ملازمت کا تعلق برادر است تعاون علی المعصیت پر مشتمل تھا، تو ایسی ملازمت اختیار کرنا شرعا جائز نہیں تھا، جس کی وجہ سے سائل گناہگار بھی ہوا ہے ، لہذا سائل کو چاہئیے کہ بصدق دل تو بہ واستغفار کرے، اور آئندہ اس طرح کے تعاون سے اجتناب کرے۔
كما في تفسير روح المعاني: قوله تعالى: وَلا تَعاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوانِ فيعم النهي كل ما هو من مقولة الظلم والمعاصي، ويندرج فيه النهي عن التعاون على الاعتداء والانتقام. اھ (3/ 230)
و في الاحكام القرآن: ويستفاد من كلام الزيلعي والنهر والدر المختار، على ان المدار على ان ما قامت المعصية بعينه يكره تحريماً والا فتنزيها ، حيث قالوا فيه ان يكره تحريماً بيع السلاح من اهل الفتنة ان علم لانه اعانة على المعصية وبيع ما يتخذ من السلاح كالحديد بكره تحريماً، اھ (۳/ ۷۶)
و في الدر المختار: (ويكره) تحريما (بيع السلاح من أهل الفتنة إن علم) لأنه إعانة على المعصية (وبيع ما يتخذ منه كالحديد) ونحوه يكره لأهل الحرب (لا) لأهل البغي لعدم تفرغهم لعمله سلاحا لقرب زوالهم، بخلاف أهل الحرب زيلعي. (4/ 268)
و في اعلاء السنن: ان الشئ اذا حرم عينه حرم ثمنه، وفيه دليل على ان بيع المسلم الخمر من الذمى لا يجوز اھ (۱/ ۱۰۵)
وفيه ايضاً : ولا يجوز الاستيجار على حمل الخمر لمن يشربها ولا على حمل خنزير ولا ميتة لذالك (اى للاكل) ، اھ (۱۶/ ۲۱۲)