موت

موت سے پہلے کفن اور قبر تیار کرنا شرعا کیسا ہے؟

فتوی نمبر :
39891
| تاریخ :
2020-03-23
عبادات / جنائز / موت

موت سے پہلے کفن اور قبر تیار کرنا شرعا کیسا ہے؟

مفتی صاحب موت سے پہلے اپنے لئے کفن اور قبر کھودنا کیسا ہےشریعت کے روسے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اپنے لئے پہلے سے کفن اور قبر تیار کر کے رکھنا اس نیت سے کہ موت کا استحضار رہے، شرعا جائز ہے، البتہ موت سے پہلے قبر کھودنے کو بعض علماء کرام نے ناپسند فرمایا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: ويحفر قبرا لنفسه، وقيل يكره والذي ينبغي أن لا يكره تهيئة نحو الكفن بخلاف القبر اھ
وفي الشامية: (قوله يحفر قبراً لنفسه) (قوله ويحفر قبرا لنفسه في بعض النسخ وبحفر قبر لنفسه، على أن لفظة حفر مصدر مجرور بالباء مضاف إلى قبر: أي ولا بأس به وفي التتارخانية لا بأس به، ويؤجر عليه، هكذا عمل عمر بن عبد العزيز والربيع بن خيثم وغيرهما اھ ( قوله والذي ينبغي إلخ) كذا قوله في شرح المنية، وقال لأن الحاجة إليه متحققة غالبا، بخلاف القبر وما تدري نفس بأي أرض تموت (لقمان: (34) اهـ - (244/2)
وفي الهنديه : ومن حفر قبرا لنفسه فلا بأس به ويؤجر عليه اھ (ج 1 ص 166)
وفي اعلاء السنن: اعلم ان استعداد الكفن للمر لاباس وحفر القبر قبل أوانه لا يحمد اھ.(272/8)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 39891کی تصدیق کریں
0     859
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کسی عذر کی وجہ سے اہلِ میت سے تین دن کے بعد تعزیت کا حکم

    یونیکوڈ   موت 0
  • نزع کے وقت تلقین کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   موت 0
  • تعزیت کے لیے تین دن کے بعد جانا

    یونیکوڈ   موت 0
  • کیا نیک مسلمان کو بھی موت کی سختی محسوس ہوتی ہے؟

    یونیکوڈ   موت 0
  • میت کو غسل دیتے اور کفن پہناتے وقت اس کی روح کہاں ہوتی ہے؟

    یونیکوڈ   موت 0
  • موت سے پہلے کفن اور قبر تیار کرنا شرعا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   موت 0
Related Topics متعلقه موضوعات