محترم جناب مفتی صاحب ! السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین مبین و مفتیانِ شرع متین اسماعیلی (آغا خانی) فرقہ کے بارے میں ؟ کیا وہ مسلمان کہلوانے کے حقدار ہیں؟ اُن کے عقائد باطلہ کیا ہیں؟ان کے ساتھ لین دین اور رشتہ داری کا کیا حکم ہے؟ ان کی شادی بیاہ اور فوتگی و جنازہ میں شرکت کا کیا حکم ہے؟ درج بالا سوالات کے بارے میں اجمالاً یا تفصیلاً فتویٰ صادر فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔
معروف فرقہ آغا خانی اپنے باطل عقائد و نظریات کی بناء پر دائرہ اسلام سے خارج ہے ، اور یہ روافض ہی کی ایک شاخ ہے جو قرآن کریم میں تحریف ، شراب وزنا کو حلال اور خلفاء راشدین کے علاوہ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے متعلق (معاذ اللہ ) کافر ہو جانے کا اعتقاد رکھتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ ان کے زندیق ہونے پر امت مسلمہ کا اجماع ہے، اس لیے ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھنے ، ان کی غمی و خوشی اور جنازہ میں شرکت کرنے کے ساتھ ساتھ رشتہ داری کرنے سے بھی مسلمانوں کو اجتناب کرنا چاہیئے۔
کما فی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله وتمامه فيه) أي في الفتح حيث قال: ويجب أن يكون حكم المنافق في عدم قبولنا توبته كالزنديق لأن ذلك في الزنديق لعدم الاطمئنان إلى ما يظهر من التوبة إذا كان يخفي كفره الذي هو عدم اعتقاده دينا، والمنافق مثله في الإخفاء. وعلى هذا فطريق العلم بحاله إما بأن يعثر بعض الناس عليه أو يسره إلى من أمن إليه اهـ.
مطلب حكم الدروز والتيامنة والنصيرية والإسماعيلية [تنبيه] يعلم مما هنا حكم الدروز والتيامنة فإنهم في البلاد الشامية يظهرون الإسلام والصوم والصلاة مع أنهم يعتقدون تناسخ الأرواح وحل الخمر والزنا وأن الألوهية تظهر في شخص بعد شخص ويجحدون الحشر والصوم والصلاة والحج، ويقولون المسمى به غير المعنى المراد ويتكلمون في جناب نبينا - صلى الله عليه وسلم - كلمات فظيعة. وللعلامة المحقق عبد الرحمن العمادي فيهم فتوى مطولة، وذكر فيها أنهم ينتحلون عقائد النصيرية والإسماعيلية الذين يلقبون بالقرامطة والباطنية الذين ذكرهم صاحب المواقف. ونقل عن علماء المذاهب الأربعة أنه لا يحل إقرارهم في ديار الإسلام بجزية ولا غيرها، ولا تحل مناكحتهم ولا ذبائحهم، وفيهم فتوى في الخيرية أيضا فراجعها اھ(4/ 244) ۔