کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام درجِ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقہ میں آغاخان فاؤنڈیشن میں (جو مشہور فاؤنڈیشن ہے پاکستان میں اور خصوصاً چترال میں) آغاخانی لو گ اپنی زکوٰۃ ،صدقات اپنے امام آغا خان کے نام پر دیتے ہیں، اس فاؤنڈیشن کا مشن یہ ہے کہ سادہ لو ح مسلمانوں پر پیسے خرچ کر کے، اسی طرح اسکول و غیرہ بنا کر ان کے عقائد بگاڑ کر آغاخانی بناتے ہیں۔
اسی فاونڈیشن نے چترال میں ایک نالہ بنایا ہے جس سے پانی سارے علاقہ کیلۓ آتا ہے، اس طرح ایک شخص نے سکول بنانے کیلۓ اپنی جگہ آغاخان فاونڈیشن کو کرایہ پر دی ہے ۔
اب سب سے پہلے جواب طلب بات یہ ہے کہ نالہ سے آنے والا پانی استعمال کرنا اہلِ علاقہ کیلۓ جائز ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو جواز کی وجہ ؟ جبکہ اہلِ علاقہ غربت کی وجہ سے اس سے قاصر ہیں ۔
دوسری بات ،کیا اس شخص نے جو زمین آغا خان کو کرایہ پر دی ہے، شریعت کی رو سے جائز ہے یا نہیں؟ حاصل شدہ رقم حلال ہوگی یا حرام؟ اور اس شخص کو جو منع کرنے کے باوجود باز نہیں آتا ، اس کیساتھ کیا برتاؤ کیا جائے؟ ایسے شخص سے تعلق اور میل جول رکھنا اسلام کی رو سے کیسا ہے؟ اس کے گھر دعوت پر جانا صحیح ہے یا نہیں؟قرآن ،حدیث ، اجماع اور قیا س کی روشنی میں تفصیلی جواب دیکر ممنون فرمائیں ۔
اس نہر کی تعمیر اگر چہ زنادقہ اور کافروں کی رقم اور کوشش سے ہوئی ہو ، مگر اس کا پانی استعمال کرنے کی صورت میں اگر مسلمانوں کو دین دشمن سرگرمیوں میں نہ لگنا پڑتا ہو تو پانی کے مباح الاصل ہونے کی وجہ سے اس کا استعمال جائز ہے۔
جبکہ آغاخان فاؤنڈیشن کو سکول کیلۓ اپنی زمین کرایہ پر دینا انتہائی درجہ ناپسندیدہ اور مکروہ حرکت ہے، خصوصاً جبکہ وہ اسے دینِ اسلام کے خلاف استعمال کرنے کیلۓ کوشاں ہوں تو اس سے اس کی شناعت و قباحت اور بھی بڑھ جاتی ہے ، تاہم ان سے اس جگہ کے عوض جو کرایہ لیا گیا ہے، وہ حلال ہے اور دیگر مسلمانوں کو چاہیۓ کہ شخصِ مذکور کو اس اجارہ کے ختم کرنے پر آمادہ کریں اور یہی اس کے حق میں بہتر ہے ۔
في تفسير البغوي : قَوْلُهُ تَعَالَى : {وَ مَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ} أَيْ مُوَالَاةَ الْكُفَّارِ فِي نَقْلِ الْأَخْبَارِ إِلَيْهِمْ وَ إِظْهَارِهِمْ عَلَى عَوْرَةِ الْمُسْلِمِينَ {فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ} [أَيْ لَيْسَ مِنْ دِينِ اللَّهِ فِي شَيْءٍ] ثُمَّ اسْتَثْنَى فَقَالَ {إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً} يَعْنِي: إِلَّا أَنْ تَخَافُوا مِنْهُمْ مَخَافَةً اھ(2/ 25)۔
و فيه ایضاً : وَ مَعْنَى الْآيَةِ : أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى نَهَى الْمُؤْمِنِينَ عَنْ مُوَالَاةِ الْكُفَّارِ وَ مُدَاهَنَتِهِمْ وَ مُبَاطَنَتِهِمْ إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْكُفَّارُ غَالِبِينَ ظَاهِرِينَ ، أَوْ يَكُونَ الْمُؤْمِنُ فِي قَوْمٍ كُفَّارٍ يَخَافُهُمْ فَيُدَارِيهِمْ بِاللِّسَانِ وَ قَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ دَفْعًا عَنْ نَفْسِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَسْتَحِلَّ دَمًا حَرَامًا أَوْ مَالًا حَرَامًا ، أَوْ يُظْهِرَ الْكُفَّارَ عَلَى عَوْرَةِ الْمُسْلِمِينَ ، وَ التَّقِيَّةُ لَا تَكُونُ إِلَّا مَعَ خَوْفِ الْقَتْلِ وَ سَلَامَةِ النِّيَّةِ ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : " إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَ قَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ " اھ(2/ 26)۔