السلام علیکم!
۱۔جمہ کے دو خطبوں کے درمیان دعا مانگنی چاہیۓ ؟ ہاتھ اُٹھا کر یا بغیر ہاتھ اُٹھائے؟
۲۔حج کا خطبہ یا کوئی دوسرا خطبہ ، جس دعائیں ہوں ، ہاتھ اُٹھانے چاہیۓ یا نہیں؟
۳۔حرم میں جماعت کے ساتھ وتر پڑھتے وقت ہاتھ اُٹھانے چاہیۓ یا نہیں ؟
جمعہ کے دو خطبوں کے درمیان اور اسی طرح حج یا کسی اور خطبے کے دوران ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگنا درست نہیں ، بلکہ اگر دعا مانگنی ہو ، یا خطیب کی دعا پر آمین کہنا ہو ،تو دل ہی دل میں دعا کرنی چاہیۓ ، جبکہ وتر کی آخری رکعت میں بھی دعاءِ قنوت پڑھتے ہوئے ہاتھ اُٹھانا ، فقہاءِ احناف کے ہاں مسنون نہیں، اس لۓ اس سے بھی احتراز کرنا چاہیۓ۔
ف فی حاشية ابن عابدين : و إذا شرع في الدعاء لا يجوز للقوم رفع اليدين و لا تأمين باللسان جهرا فإن فعلوا ذلك أثموا و قيل أساءوا و لا إثم عليهم و الصحيح هو الأول و عليه الفتوى اھ (2/ 158)۔
و فی الدر المختار : (و كل ما حرم في الصلاة حرم فيها) أي في الخطبة خلاصة و غيرها فيحرم أكل و شرب و كلام و لو تسبيحا أو رد سلام أو أمرا بمعروف بل يجب عليه أن يستمع و يسكت (بلا فرق بين قريب و بعيد) في الأصح اھ (2/ 159)۔