ایک سوال ہے جس پر آپ سے فتویٰ چاہیئے ، سوال یہ ہے کہ اسلام میں نکاح میاں بیوی کی رضا مندی اور دو لوگوں کی گواہی میں ہونا ضروری ہے، تو جس طرح فلموں، ڈراموں میں ایکٹنگ کے طور پر ان شرائط کو مد نظر رکھتے ہوئے نکاح کیا جاتا ہے تو کیا اس عملی تقاضہ سے ( عملی طور پر ، حقیقت میں بھی ) نکاح ہو گیا ہے ؟ کیونکہ گواہ بھی موجود ہیں اور رضامندی بھی ظاہر ہو رہی ہے۔ شکریہ
فلموں اور ڈراموں میں عموماً ڈرامہ نگار (رائٹر ) کی لکھی ہوئی فرضی کہانی کو حقیقت کے جامہ میں پیش کرنے کیلئے اس کی عکاسی کی جاتی ہے، اور اگر رائٹر نے کہانی میں کسی کردار کی شادی کی صورت لکھی ہو تو اداکار ان کا روپ دھار کر مرد و عورت کی صورت میں محض اس کہانی میں لکھے ہوئے ایجاب و قبول کے الفاظ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ان الفاظ کو دہراتے ہیں اور یہ اس کہانی کے اصل کرداروں کے الفاظ کی حکایت ہوتی ہے، اداکاروں کا ایک دوسرے کے ساتھ انشاء نکاح کا کوئی قصد نہیں ہوتا، چنانچہ یہ کردار بعض دفعہ شادی شدہ عور تیں بھی نبھاتی ہیں ، اسلئے اگر عکاسی ہی مقصود ہو تو شرعاً اس سے نکاح منعقد نہیں ہوتا۔
کمافي الهداية: قال: النكاح ينعقد بالإيجاب والقبول بلفظين يعبر بهما عن الماضي لأن الصيغة وإن كانت للإخبار وضعا فقد جعلت للإنشاء شرعا دفعا للحاجة۔اھ (1/185)
وفي التاتارخانية: و في الذخيرة: قال واحد من اهل المجلس للمطربة: ”اين بيت بگو کہ من تو دادم کہ تو جان منى“ فقالت المطربة ذلك، فقال الرجل: ”من پذیرفتم“ اذا قالت على وجه الحكاية فقيل: لا ينعقد النكاح، لانها اذا قالت على وجه الحكاية لا تكون قاصدة للايجاب۔اھ (2/582)