السلام علیکم! ایک شخص اللہ رب العزت کی تقدیر سے مسلمان، ہندو، یہودی، عیسائی کے گھرانے میں پیدا ہو، کیا اس تقدیری پیدائش پر کسی انعام یاسزا کا اطلاق ہوگا؟ اللہ رب العزت کے دین اسلام کا قانون کیاہے۔
اللہ تعالیٰ کسی مسلمان، ہندو،اور عیسائی وغیرہ کے گھر میں پیدا ہونے کی وجہ سےاللہ تعالیٰ ثواب یا عذاب کا فیصلہ نہیں فرماتا، بلکہ بالغ ہونے کے بعد اس شخص کے نیک یا بد عمل پر ثواب یا عذاب کا فیصلہ فرماتاہے، اگر بچپن میں کوئی غیر مسلم گھرانے کا بچہ مرجائے تو راجح قول کے مطابق وہ بھی جنت میں جائے گا۔
في تکملة فتح الملهم : تحت قوله(مامن مولود یولد علی الفطرۃ)ٲي علی مبادیٔ الإسلام من التوحید وغیرہ وغیرہ التي جبل اللہ علیہا (ٳلی قولی)قد اختلف العلماء في عاقفم ٲطفال المشرکین الذین ماتوا قبل ٲن یبلغوا الحلم، وقد ذکر الحافظ في الفتح عشرۃ ٲقوال، من ٲھمھا ما یلي: ٳنھم من ٲھل الجنة، وھو المذھب الصحیح الذي اختارہ الجمھور، وقد ثبت ذلك بعدۃ دلائل، (ٳلی قولخ)قوله تعالی: وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا، وٳذا کان لا یعذب العاقل لکونہ لم تبلغه الدعوۃ فلٲن لا یعذب غیرہ من باب الأولی، قال النووي: ولا یتوجه علی المولود التکلیف، ولا یلزمه قول الرسول حتی یبلغ اھـ (۵/۵۰۰) ــــــــــــــــــــــــــ واللہ أعلم بالصواب!
محض مسلم یا غیر مسلم گھرانے میں پیدا ہونے کی وجہ سے جنتی یا جہنمی ہونے کا اطلاق نہیں ہوتا
یونیکوڈ جنت 0