کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ (۱) میں ایک طالبعلم ہوں میرے سمیت ہم چار بھائی ہیں اور میں سب سے چھوٹا ہوں اور گزشتہ سال میں نے جہاد کی ٹریننگ کی ہے اور اب امسال میں افغانستان یا کشمیر میں جہاد کیلئے والدہ صاحبہ کی اجازت کے بغیر جانا چاہتا ہوں اور والد صاحب وفات پاگئے ہیں، اور والدہ صاحبہ کی خدمت کیلئے دوسرے بھائی ہیں، اور گھر کی حالت بھی برابر ہے اگر میں بغیر پوچھے چلا گیا اور وہاں قتل ہوا تو شہید کہلاؤں گا یا نہیں؟
(۲) اور جہادی ٹریننگ کیلئے والدین کی اجازت کے بغیر جانا جائز ہے کہ نہیں؟ براہِ کرم تسلی بخش جواب دے کر ممنون فرمائیں۔
مذکور دونوں امور میں شرکت کیلئے آپ کو والدین سے اجازت لینا ضروری ہے، لہٰذا اگر آپ جہاد یا ٹریننگ کیلئے جانا ہی چاہتے ہیں تو اُنہیں فضائل سناکر اجازت طلب کرلیں، اگر وہ اجازت دے دیں تو وہ بھی ان فضائل میں برابر کے شریک ہوں گے ورنہ دور جانے سے احتراز کریں اور مقامی طور پر اُن کی اجازت سے دوسری جہادی پروگراموں میں شرکت کرلیا کریں۔
تاہم پھر بھی اگر کوئی شخص والدین کی اجازت کے بغیر چلا جائے اور دشمن اسلام کے ساتھ برسرپیکار ہونے کی صورت میں شہید ہوجائے تو اگرچہ بغیر اجازت جانے پر گناہگار ضرور ہوگا، مگر رب کریم شہداء والا معاملہ بھی اس سے فرمائیں گے اور وہ شہید کہلائے گا۔
وفی رد المحتار: وفی بعض الروایات لا یخرج الی الجھاد إلا بإذنھما ولو أذن احدھما فقط لا ینبغی لہ الخروج لإن مراعات حقھما فرض عین والجھاد فرض کفایۃ۔ (ج۶، ص۴۰۸)۔
قال الامام القرطبی: فی تفسیر قولہ تعالٰی واعدّوا لھم ما استطعتم من قوّۃ، وتعلم الفروسیّۃ واستعمال الاسلحۃ فرض کفایۃ الخ (تفسیر قرطبی: ج۸، ص۳۶)۔
وفی الشامیۃ: وان مات فی معصیتہ بسبب من اسباب الشھادۃ فلہ اجر شہادتہ وعلیہ اثم معصیۃ۔ (ج۲، ص۳۵۳) واللہ اعلم
محض مسلم یا غیر مسلم گھرانے میں پیدا ہونے کی وجہ سے جنتی یا جہنمی ہونے کا اطلاق نہیں ہوتا
یونیکوڈ جنت 0