السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میرا سوال یہ ہے کہ زکوٰۃ کے پیسے کسی کاروبار میں لگا کر اس کا جو نفع آئے وہ مستحقین پر لگایا جائے تو کیا یہ جائز ہے؟
زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے زکوٰۃ کی رقم کا کسی مستحق کو مالک بنادینا ضروری ہے، جو صورت مسئولہ میں مفقود ہے، اس لیے زکوٰۃ کی رقم کاروبار میں لگانے سے احتراز لازم ہے۔
کما فی تنویر الابصار: هي تملیک جرء مال عینہ الشارع من مسلم فقیر غیرھاشمی ولا مولاہ مع قطع المنفعة عن المملک من کل وجہ للہ تعالی: الخ (2/256)۔