زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیا زکوٰۃ کی رقم کاروبار میں لگائی جاسکتی ہے؟

فتوی نمبر :
25721
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیا زکوٰۃ کی رقم کاروبار میں لگائی جاسکتی ہے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میرا سوال یہ ہے کہ زکوٰۃ کے پیسے کسی کاروبار میں لگا کر اس کا جو نفع آئے وہ مستحقین پر لگایا جائے تو کیا یہ جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے زکوٰۃ کی رقم کا کسی مستحق کو مالک بنادینا ضروری ہے، جو صورت مسئولہ میں مفقود ہے، اس لیے زکوٰۃ کی رقم کاروبار میں لگانے سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی تنویر الابصار: هي تملیک جرء مال عینہ الشارع من مسلم فقیر غیرھاشمی ولا مولاہ مع قطع المنفعة عن المملک من کل وجہ للہ تعالی: الخ (2/256)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عطاء الرحمن حنیف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 25721کی تصدیق کریں
0     20
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات