طلیحہ بن خویلد اسدی صحابی رسول ہیں بعد میں ارتداد کا شکار ہوکر نبوت کا دعویٰ کر بیٹھے ،پھر ندامت وافسوس کے بعد حضرت عمررضی اللہ عنہ کے زمانے میں توبہ کرکے دوبارہ مسلمان ہوئے اب ان کی صحابیت برقرار ہے یا نہیں ؟ ان کو ’’رضی اللہ عنہ‘‘ کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟اگر کو ئی نہیں کہتاہے تو کیا وہ گنہگار ہوگا ؟ جواب مرحمت فرمائیں ۔والسلام مع الاحترام
جب طلیحہ بن خویلد اسدی دوبارہ اسلام لائے اور اسی اسلام پر ان کی وفات ہوئی تو وہ صحابی کہلائےجائیں گے ،اس لیے کہ صحابی وہ ہوتاہے جس نے ایمان کی حالت میں نبی کریم ﷺکو دیکھا ہو ،اور حالت اسلام پر اس کو موت آئی ہو ، لہٰذا ان کو ’’رضی اللہ عنہ‘‘ کہہ سکتے ہیں ،مگر’’رضی اللہ عنہ‘‘ کہنا چونکہ فرض یا واجب نہیں ،اس لیے کسی بھی صحابی کے نام کے ساتھ دعائیہ جملہ نہ کہنے والا گنہگار نہیں ہوگا ۔
ففی البداية والنهاية: وَذَكَرَهُ مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ فِي الطَّبَقَةِ الرَّابِعَةِ مِنَ الصَّحَابَةِ - رضوان اللہ علیھم اجمعین- ۔ (7/ 133)
و فی تکملة فتح الملھم: ثم یشترط فی الصحابی أن یکون رآہ صلی اللہ علیه و سلم فی حالة الاسلام ثم مات علی الاسلام (الی قوله) فلو ارتد احد ثم عاد إلی الإسلام، و لکن لم یرہ صلی اللہ علیه وسلم ثانیا بعد عودہ فالصحیح انه معدود فی الصحابة الخ (ج5ص59مکتبه دارالعلوم کراچی)۔
و فی الدر المختار : (ويستحب الترضي للصحابة) وكذا من اختلف في نبوته كذي القرنين ولقمان الخ (6/ 754) والله أعلم بالصواب!
کیا حضرت خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ نے مالک بن نویرہ کی بیوی سے دورانِ عدت شادی کی تھی؟
یونیکوڈ تاریخی شخصیات 0