السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کوئی شخص کام کے سلسلے میں بیرون ملک مقیم ہو، بیوی کے بغیر گزارہ مشکل ہو تو بیوی کا تصور کر کے ہاتھوں سے یا کسی اور چیز سے مثلاً کپڑے، فوم وغیرہ سے خواہش پوری کی جاسکتی ہے؟ ورنہ گندے خیالات بہت تنگ کرتے ہیں، انٹرنیٹ کے ذریعے گندی تصاویر اور فلمیں وغیرہ دیکھنے جیسے گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے ، میں نے سنا ہے زناء سے بچنے کے لیے ایسا کیا جاسکتا ہے، اور آنکھوں کا زناء دیکھنا ہے۔
بیوی کا تصور کر کے خود لذتی کرنا بھی ناجائز وحرام اور گناہ ہے، اس سے مزید گناہوں میں مبتلا ہونے کا قوی اندیشہ ہے، اس لیے اس سے احتراز لازم ہے، جبکہ سائل کو چاہیے کہ یا تو خود کچھ عرصہ کے لیے چھٹی لیکر بیوی بچوں کے پاس آجائے یا ان کو اپنے پاس بلالے، تاکہ حقوق کی ادائیگی کے ساتھ حرام سے بھی اجتناب ہوسکے۔
کمافی ردالمحتار: تحت (قوله: ولو خاف الزنى إلخ) (الی قولہ) إن أراد بذلك تسكين الشهوة المفرطة الشاغلة للقلب وكان عزبا لا زوجة له ولا أمة أو كان إلا أنه لا يقدر على الوصول إليها لعذر قال أبو الليث أرجو أن لا وبال عليه وأما إذا فعله لاستجلاب الشهوة فهو آثم الخ (2/399)۔