مفتی صاحب : ایک مسئلہ پیش آگیا ہے کہ انبیاء کرام کی حیات کا قرآن میں کوئی ذکر نہیں، جبکہ شہدا کی حیات عبارة النص سے ثابت ہے اس واسطے معلوم ہوا کہ انبیاء اکرام کی حیات دلالۃ النص سے ثابت ہے، یاد رہے کہ یہ دوسرے پارے کی آیت ہے ۔ چوتھے پارے میں ال عمران میں اللہ نے فرمایا ہے کہ شہداء میرے پاس ہیں ان کو رزق دیا جاتا ہے ۔ تو معلوم ہوا کہ انبیاء بھی زندہ ہیں ۔ اور مشکوۃ شریف کی حدیث ہے کہ شہدا کی ارواح کو پرندوں کے پیٹوں میں بند کر دیا جاتا ہے اور وہ جنت میں سیر کرتے ہیں ۔ پوچھنا یہ ہے کہ جو حضرات کہتے ہیں کہ انبیاء کی حیات دنیوی ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ مہر بانی فرمائیں ہمارے پاس مسئلہ بنا ہوا ہے ۔
اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ آپ علیہ الصلاة والسلام اپنے روضہ اطہر میں حیات ہے اور ان کی یہ حیات دنیاوی حیات سے بھی اعلیٰ وارفع ہے، اس لیے احادیث مبارکہ کی رو سے جو شخص روضہ اطہر کے پاس آپ علیہ الصلاة والسلام پر درود پڑھتا ہے تو آپ علیہ الصلاة والسلام اس کو بذات خود سنتے ہیں اور جواب دیتے ہیں اور جو شخص دور سے درود پڑھتا ہے تو اللہ رب العزت فرشتوں کے ذریعے آپ علیہ الصلاة والسلام تک پہنچاتے ہیں، مگر بایں ہمہ یہ حیات برزخی ہے ۔
کسی بزرگ کا انتقال کے بعد لوگوں کے پکارنے پر ان کی مدد کےلۓ حاضر ہونا-اور اس کا عقیدہ رکھنا
یونیکوڈ احوال قبر 0