میرا سوال یہ ہے کہ کیا عورتوں کا جماعت میں جانا جائز ہے ؟
جاننا چاہیے کہ عورتوں کے لیے تبلیغ میں نکل کر ہی دین سیکھنا فرض یا واجب نہیں، بلکہ مستحب ہے، البتہ آج کل فتنہ کا دور ہے اور بے دینی عام ہے اور اس کا سیلاب بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے ،اس لئے اگر مستورات مندرجہ ذیل شرائط کی پابندی کرتے ہوئے گاہ بگاہ تبلیغ کے لیے نکلیں تو اس کی گنجائش ہے اگر ان شرائط کی رعایت نہ کریں تو ان کے لیے جماعت میں نکلنا جائز نہیں۔ وہ شرائط یہ ہیں۔
۱: عورت کے سرپرست یا شوہر کی اجازت ہو ۔ ۲: اگر سفر شرعی پر جانا ہے تو محرم یا شوہر کا ساتھ ہونا لازم ہے۔ ۳: کسی فتنہ کا اندیشہ نہ ہو۔ ۴: زینت یا بناؤ سنگار کر کے یا مہکنے والی خوشبو لگا کر نہ نکلیں۔ ۵: عورتیں جس گھر میں ٹھہریں وہاں پردہ کا مکمل انتظام ہو اور غیر محرم مردوں کا وہاں کوئی عمل دخل نہ ہو۔ ۶: دوران تعلیم عورتوں کی آواز غیر محرم مرد نہ سنیں ۔
ففي البحر الرائق شرح كنز الدقائق: فإن أرادت أن تخرج إلى مجلس العلم بغير رضا الزوج ليس لها ذلك فإن وقعت لها نازلة إن سأل الزوج من العالم أو أخبرها بذلك لا يسعها الخروج وإن امتنع من السؤال يسعها من غير رضا الزوج وإن لم تقع لها نازلة لكن أرادت أن تخرج إلى مجلس العلم لتتعلم مسألة من مسائل الوضوء والصلاة فإن كان الزوج يحفظ المسائل ويذكر عندها فله أن يمنعها وإن كان لا يحفظ فالأولى أن يأذن لها أحيانا وإن لم يأذن فلا شيء عليه ولا يسعها الخروج ما لم يقع لها نازلة اھ (4/ 212)