اہل سنت کا موقف ہے کہ حضرت علیؓ نے حضرت ابو بکر صدیقؓ کی بیعت کرلی تھی لہذا ان کو غاصب کہنا غلط ہے ، میرا سوال یہ ہے کہ اگر بالفرض حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیعت نہ کی ہوتی اور یہ کہتے ، چونکہ میں انتخاب کے وقت ثقیفہ میں موجود نہیں تھا اس لئے میں آپ کی بیعت نہیں کرتا، تو بتائیں کہ کیا پھر بھی خلافت قائم ہو جاتی ؟ اور اس خلافت کا اہلِ سنت کے یہاں کیا مقام ہوتا ؟
قیام خلافت میں تب بھی کوئی اشکال نہ ہوتا، مگر تحقیق سے یہ ثابت ہےکہ انہوں نے بیعت فرمائی تھی اور اس کا تذکرہ اس لئے کیا جاتا ہے تاکہ کوئی بد باطن اس کو صحابہ کرام علیہم الرضوان کے خلاف طعن و تشنیع کی زبان دراز نہ کر سکے۔