آپ سے معلوم یہ کرنا تھا کہ ایک قطعہ زمین جو خالی ہواورغیر آباد ہو اور گورنمنٹ کے ریکارڈ میں شاملات نام سے ہو۔ضرورت مند اسے زرعی طور پر آباد کر سکتا ہے؟تا آنکہ اس پر کوئی تعمیر ہو یا اور حل نکلے،ایسی صورت میں اسے آباد کرنا شرعاً کیسا ہے۔کیا سیرت طیبہ میں کوئی ایسا واقعہ ملتا ہے؟
مذکور غیر آباد زمینیں (شاملات) اگر گورنمنٹ کے زیرِ انتظام ہو ، تو کسی بھی شخص کے لئے گورنمنٹ کی اجازت سے انہیں آباد کرنے کی حق حاصل ہوگا، چنانچہ اگر کوئی شخص گورنمنٹ کی اجازت سے ایسی زمین آباد کرے تو وہ اس کا مالک شمار ہوگا۔
جبکہ سیرت طیبہ میں بھی اس کے کئی نظائر موجود ہیں ، چنانچہ آپ ﷺ کا سیدنا حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو "القبیلہ" نامی زمینیں اور حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کو "حضرموت " کی زمینیں دینے کا تذکرہ آحادیث مبارکہ کی کتابوں میں موجود ہے۔
کما فی سنن ابی داؤد: حدثنا عبد الله بن مسلمة عن مالك عن ربيعة بن أبي عبد الرحمن عن غير واحد: (أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أقطع بلال بن الحارث المزني معادن القبلية) وهي من ناحية الفرع، فتلك المعادن لا يؤخذ منها إلا الزكاة إلى اليوم](رقم:3061)۔
وعن علقمة بن وائل عن أبيه رضى اللَّه عنه "أن النبى صلى اللَّه عليه وسلم أقطعه أرضا بِحَضْرَ مَوْتَ"(رقم:3058)۔
وفی بدائع الصنائع : الارض الموات ھی ارض خارج البلد لم تکن ملکا لاحد ولا حقا لہ خاصاً۔( 8/283)۔
وفی شرح المجلۃ : اذا احیا شخص ارضا من الاراضی الموات باذن السلطان صار مالکا لھا ۔۔۔لہ ان الارض مغنومۃ لاستیلاء المسلمین علیھا فلم یکن لاحد ان یختص بھا بدون اذن الامام کسائر المغانم ۔۔۔قال فی ردالمحتار وقول الامام ھو المختار ۔۔۔وبہ اخذ الطحاوی وعلیہ المتون ۔( 4/ 204)۔
(الی قولہ) الا فی مقدارحصتہ کل من الشرکاء فی شرکۃ الملک اجنبی فی حصۃ سائر ھم فلیس احدھم وکیلا عن الآخر ولا یجوز لہ ان یتصرف فی حصۃ شریکہ بدون اذنہ۔ (المادۃ:1075)۔