محترم جناب مفتی صاحب! بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ قرآن پاک 23 سال کے عرصہ میں نازل ہوا، لہٰذا اس پر عمل کرنا آسان تھا، اور اچانک کا بوجھ نو مسلموں پر نہیں ہونا چاہیئے ، اور ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک دم سے سارے گناہ چھوڑنے اور تمام نیکیاں اپنانے کو نہیں کہنا چاہیئے ،بلکہ پہلے نماز کی ترغیب اور پھر بتدریج گنا ہوں کو چھڑوانا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگ تبلیغی جماعت کے علماء کے صرف اس لیے مخالف ہیں کہ وہ لوگوں کو ایک دم گناہ چھوڑنے کو کہتے ہیں اور انہیں چاہیئے کہ بتدریج گناہ چھوڑنے کو کہیں جیسا کہ اللہ تبارک و تعالی اپنے پاک پیغمبر علیہ السلام کو بتدریج احکام نازل فرماتے رہے ۔ میرے خیال ہیں وہ بالکل غلط ہے۔ براہ کرم آپ بتائیں کہ یہ نظریہ صحیح ہے یا غلط ؟ حوالہ کے ساتھ جواب ارسال فرمائیں تاکہ امت مسلمہ کو فائدہ ہو ۔
کھلی ہوئی منکرات اور فرائض میں تو فوراً اہتمام کرنا ہی لازم ہے ،جبکہ تربیتی امور تدریجی طریقہ کار کو بھی ملحوظ رکھا جاسکتا ہے ۔
قال اللہ تعالی : {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ } [البقرة: 208]
وقال اللہ تعالیٰ ايضاً: {الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا } [المائدة: 3]