میرا یہ سوال ہے کہ جب انسانوں کو جنت میں داخل کیا جائےگا تو مردوں کے لیے تو حوریں ہونگی اور عورتوں کے لیے غلام ہونگے اور وہ ان سے کیا کر سکتی ہیں؟ جو چاہیں یا صرف نوکر کی حد تک ؟
واضح ہو کہ جنت ہر قسم کی بے حیائی وہ بیہودگی سے پاک ہے اور نہ ہی وہاں اس قسم کے گندے خیالات آئیں گے، تاہم غلام تو محض خدمت کے لیے ہونگے، ہاں! جن عورتوں کی شادی دنیا میں ہو چکی ہوگی وہ آخرت میں بھی اپنے شوہروں کےساتھ ہونگی، بشر طیکہ شوہر بھی جنت میں جائیں، ورنہ ایسی عورتیں اور جنہوں نے دنیا میں شادی نہ کی ہوگی، ان کو اختیار ہوگا کہ وہ جس جنتی مرد سے بھی شادی کرنا چاہیں، ان کی شادی کر دی جائگی اور اگر وہ انسانوں میں سے کسی کے ساتھ شادی کےلیے راضی نہ ہوں تو اللہ تعالی حور عین سے ایک مرد پیدا کریں گے، پھر اس کے ساتھ ان کی شادی کر دیں گے۔
ففی تفسير ابن كثير: وقوله تعالى: ﴿ويطوف عليهم ولدان مخلدون إذا رأيتهم حسبتهم لؤلؤا منثورا﴾ أي يطوف على أهل الجنة للخدمة ولدان من ولدان الجنة مخلدون اھ (8/ 298)
وفي تفسیر روح المعاني: ألحقنا بهم ذريتهم في الدرجة. (إلى قوله) عن ابن عباس قال: «إن الله تعالى ليرفع ذرية المؤمن معه في درجته في الجنة وإن كانوا دونه في العمل لتقر بهم عينه ثم قرأ الآية» اھ (14/ 33)
وفي مرقاة المفاتيح: وعن أبی سعید، قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم: (إلی قوله) " «لكل رجل منهم زوجتان، على كل زوجة سبعون حلة، يرى مخ ساقها من ورائها» ". (إلى قوله) والأظهر أن لكل زوجتان من نساء الدنيا، وإن أدنى أهل الجنة من له اثنتان وسبعون زوجة في الجملة، يعني: اثنتين من نساء الدنيا وسبعين من الحور العين اھ(9/ 3589)
وفي مجموعة الفتاوى: وفى الغرائب: ولو ماتت قبل أن تتزوج: تخير أیضاً إن رضيت بأدمى زوجت منه وان لم ترض فالله يخلق ذكرًا من الحور العين فيزوجها منه. (۱/ ۱۰۴) مأخذ فتاوى محمودية 1/ 693)
محض مسلم یا غیر مسلم گھرانے میں پیدا ہونے کی وجہ سے جنتی یا جہنمی ہونے کا اطلاق نہیں ہوتا
یونیکوڈ جنت 0