السلام علیکم!
ہماری یونیورسٹی میں ایک مسجد ہے، جہاں ہم ظہر، عصر اور بعض اوقات مغرب کی نماز پڑھتے ہیں، لیکن جب جمعہ کا دن ہوتا ہے ، تو یونیورسٹی کے بہت سے طلباء یونیورسٹی سے باہر ایک مسجد میں نمازِ جمعہ پڑھنے کے لیے جاتے ہیں، اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ یونیورسٹی کی مسجد میں نمازِ جمعہ اس لیے درست نہیں کہ اس میں روزانہ پانچ وقت کی نماز ادا نہیں ہوتی، جبکہ بڑی تعداد میں طلباء یونیورسٹی ہی کی مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کرتے ہیں۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ جو طلباء یونیورسٹی کی مسجد میں نمازِ جمعہ پڑھتے ہیں آیا ان کی نماز قبول ہوگی؟
کسی مسجد میں نمازِ جمعہ کی صحت کے لیے اس میں پنج وقتہ نمازوں کا باجماعت ہونا شرط نہیں، بلکہ نمازِ جمعہ وعیدین کی صحت کے لیے دیگر شرائط ہیں، لہٰذا مذکور یونیورسٹی اگر کسی شہر یا اس کے مضافات میں واقع ہو تو وہاں جمعہ وعیدین کا قیام بلاشبہ جائز اور درست ہے، ورنہ نہیں۔
ففی التاتارخانیة: وفی العتابیة: لو صلی الجمعة فی قریة بغیر مسجد جامع والقریة کبیرة لها قری وفیها والی وحاکم جازت الجمعة بنوا المسجد أو لم یبنوا، وإن کان بخلاف ذلك لایجوز اھ (48/2)
وفی الدر المختار: (ويشترط لصحتها) سبعة أشياء: الأول: (المصر وهو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بها) (إلی قوله) (أو فناؤه) بكسر الفاء (وهو ما) حوله (اتصل به) أو لا اھ (2/ 137)
وفی الفتاوى الهندية: (ولأدائها شرائط في غير المصلي) . منها المصر هكذا في الكافي، والمصر في ظاهر الرواية الموضع الذي يكون فيه مفت وقاض يقيم الحدود وينفذ الأحكام وبلغت أبنيته أبنية منى، هكذا في الظهيرية وفتاوى قاضي خان.(إلی قوله) وكما يجوز أداء الجمعة في المصر يجوز أداؤها في فناء المصر اھ (1/ 145)
وفی الفتاوى الهندية: وتؤدى الجمعة في مصر واحد في مواضع كثيرة وهو قول أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى - وهو الأصح وذكر الإمام السرخسي أنه الصحيح من مذهب أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وبه نأخذ، هكذا في البحر الرائق. (1/ 145) واللہ اعلم