ٹیسٹ ٹیوب بے بی

ٹیسٹ ٹیوب بے بی کاحکم

فتوی نمبر :
13704
| تاریخ :
معاشرت زندگی / علاج و معالجہ / ٹیسٹ ٹیوب بے بی

ٹیسٹ ٹیوب بے بی کاحکم

ٹیسٹ ٹیوب کا استعمال جائز ہے یا حرام؟ اردو میں تفصیلاً جواب دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے حصول اولاد کے جو مختلف طرق رائج ہیں ، سخت مجبوری کے تحت صرف ایک طریقہ کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، وہ یہ کہ منی اپنے زندہ شوہر کی ہو، اور پھر شوہر کی منی اور بیوی کی منی کا باہم اختلاط کر کے یہ ٹیوب بیوی کے رحم میں رکھ دی جائے جہاں وہ حمل پرورش پائے اور یہ عمل خود بیوی یا اس کے شوہر سے کروایا جائے یا کسی ماہر معالجہ عورت سے کروایا جائے اور اس دوران ستر وحجاب کا بھی پور خیال رکھا جائے کہ ضرورت سے زیادہ ہر گز نہ کھولا جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: التلقيح الصناعي: هو استدخال المني لرحم المرأة بدون جماع. فإن كان بماء الرجل لزوجته، جاز شرعاً، إذ لا محذور فيه، بل قد يندب إذا كان هناك ما نع شرعي من الاتصال الجنسي. الخ (3/559)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
طلحہ عتیق الرحمن عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 13704کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • نرینہ اولاد کے حصول کیلئے" ٹیسٹ ٹیوب بے بی" کا سہارا لینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   ٹیسٹ ٹیوب بے بی 1
  • نرینہ اولاد کیلئے ٹیسٹ ٹیوب بے بی کا سہارا لینا

    یونیکوڈ   ٹیسٹ ٹیوب بے بی 0
  • آئی وی ایف(IVF) کے ذریعہ علاج کا حکم

    یونیکوڈ   ٹیسٹ ٹیوب بے بی 1
  • ٹیسٹ ٹیوب بے بی کاحکم

    یونیکوڈ   ٹیسٹ ٹیوب بے بی 0
  • آئی وی ایف وغیرہ ذرائع سے اولاد کے حصول کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   ٹیسٹ ٹیوب بے بی 0
Related Topics متعلقه موضوعات