ٹیسٹ ٹیوب کا استعمال جائز ہے یا حرام؟ اردو میں تفصیلاً جواب دیں۔
واضح ہو کہ ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے حصول اولاد کے جو مختلف طرق رائج ہیں ، سخت مجبوری کے تحت صرف ایک طریقہ کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، وہ یہ کہ منی اپنے زندہ شوہر کی ہو، اور پھر شوہر کی منی اور بیوی کی منی کا باہم اختلاط کر کے یہ ٹیوب بیوی کے رحم میں رکھ دی جائے جہاں وہ حمل پرورش پائے اور یہ عمل خود بیوی یا اس کے شوہر سے کروایا جائے یا کسی ماہر معالجہ عورت سے کروایا جائے اور اس دوران ستر وحجاب کا بھی پور خیال رکھا جائے کہ ضرورت سے زیادہ ہر گز نہ کھولا جائے۔
کما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: التلقيح الصناعي: هو استدخال المني لرحم المرأة بدون جماع. فإن كان بماء الرجل لزوجته، جاز شرعاً، إذ لا محذور فيه، بل قد يندب إذا كان هناك ما نع شرعي من الاتصال الجنسي. الخ (3/559)۔