میں ایک نہایت اہم سوال پوچھنا چاہتا ہوں، وہ یہ کہ آج کل کے سارے لڑکے تقریباً مشت زنی کرتے ہیں، جس کی وجہ سے شادی کے قابل نہیں رہے ان کی شادی کس طرح ہو گی وہ تو علاج کے بعد بھی مشکل سے ٹھیک ہونگے، کیونکہ کچھ لڑکے ہیں جو بائیس (22) سال سے مشت زنی کر رہے ہیں، ان کا کیا ہوگا، ان کی شادی تو ناممکن ہے، (2) دوسراسوال یہ ہے کہ ہمبستری کے دوران بیوی کا بھی فارغ ہونا ضروری ہے؟ مرد تو فارغ ہوجاتا ہے، مگر بیوی بہت کم فارغ ہوتی ہے، مہربانی کر کے مناسب حل بتائیں؟
مشت زنی کرنا حرام اور انتہائی سخت گناہ ہے، اور احادیث مبارکہ میں اس پر سخت وعیدیں آئی ہے، جس سے احتراز لازم ہے، تاہم اس سے بچاؤ کی سب سے بہتر صورت یہ ہے کہ جلد سے جلد شادی کی جائے اور زیادہ مشت زنی کی وجہ سے کمزوری آگئی ہو تو کسی ماہر معالج سے اس کا علاج بھی کرایا جاسکتا ہے، جبکہ آج کل کے والدین کو چاہئیے کہ اولاد کو بلوغ کے بعد فوراً رشتہ کا انتظام کر لیا کریں ورنہ اگر طاقت کے باوجود رشتہ نہیں کرواتے تو والدین بھی اس کے گناہ میں شریک ہونگے۔
کما فی مشکاۃ المصابیح: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ» (2/927 رقم الحدیث 3080)۔
وفیہ ایضاً: وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ بَنِي آدَمَ خَطَّاءٌ وَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي (2/724 رقم الحدیث 2341)۔
وفی ردالمحتار: (قوله الاستمناء حرام) أي بالكف إذا كان لاستجلاب الشهوة، أما إذا غلبته الشهوة وليس له زوجة ولا أمة ففعل ذلك لتسكينها فالرجاء أنه لا وبال عليه كما قاله أبو الليث، ويجب لو خاف الزنا الخ (4/27 )۔