میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اسلام کے تمام قوانین پر عمل کرتا ہے اور پانچ وقت نماز پڑھتا ہے اور پھر اپنے فارغ اوقات میں اگر وہ تفریح کے لیے کمپیوٹر گیم کھیلے تو یہ صحیح ہے یا نہیں؟ تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔
اگر کمپیوٹر گیمز اس قسم کے ہوں کہ ان میں بیہودگی و فحاشی پر مبنی مناظر اور ساز و موسیقی و غیره نہ ہو اور ان کے کھیلنے سے دماغی یا جسمانی فائدہ بھی ہوتا ہو تو بوقت ضرورت ایسے کھیل کھیلنے کی گنجائش ہے، ورنہ نہیں۔
كما في فتح الباري لابن حجر: (قوله باب كل لهو باطل): إذا شغله أي شغل اللاهي به عن طاعة الله أي كمن النهي بشيء من الأشياء مطلقا سواء كان مأذونا في فعله أو منهيا عنه كمن اشتغل بصلاة نافلة أو بتلاوة أو ذكر أو تفكر في معاني القرآن اھ (11/ 91)
و في تكملة فتح الملهم : وعلى هذا الأصل فالألعاب التي يقصد بها رياضة الأبدان أو الأذهان جائزة في نفسها ما لم تشتمل على معصية أخرى وما لم يؤد الانهماك فيها الى الاخلال بواجب الانسان في دينه ودنياه اھ (۴/ ۴۳۶) واللہ اعلم بالصواب