کھیل کود کے آداب و احکام

فارغ اوقات میں بطورِ تفریح کمپیوٹر گیم کھیلنے کی شرعی حیثیت

فتوی نمبر :
11915
| تاریخ :
آداب / آداب زندگی / کھیل کود کے آداب و احکام

فارغ اوقات میں بطورِ تفریح کمپیوٹر گیم کھیلنے کی شرعی حیثیت

میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اسلام کے تمام قوانین پر عمل کرتا ہے اور پانچ وقت نماز پڑھتا ہے اور پھر اپنے فارغ اوقات میں اگر وہ تفریح کے لیے کمپیوٹر گیم کھیلے تو یہ صحیح ہے یا نہیں؟ تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر کمپیوٹر گیمز اس قسم کے ہوں کہ ان میں بیہودگی و فحاشی پر مبنی مناظر اور ساز و موسیقی و غیره نہ ہو اور ان کے کھیلنے سے دماغی یا جسمانی فائدہ بھی ہوتا ہو تو بوقت ضرورت ایسے کھیل کھیلنے کی گنجائش ہے، ورنہ نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في فتح الباري لابن حجر: (قوله باب كل لهو باطل): إذا شغله أي شغل اللاهي به عن طاعة الله أي كمن النهي بشيء من الأشياء مطلقا سواء كان مأذونا في فعله أو منهيا عنه كمن اشتغل بصلاة نافلة أو بتلاوة أو ذكر أو تفكر في معاني القرآن اھ (11/ 91)
و في تكملة فتح الملهم : وعلى هذا الأصل فالألعاب التي يقصد بها رياضة الأبدان أو الأذهان جائزة في نفسها ما لم تشتمل على معصية أخرى وما لم يؤد الانهماك فيها الى الاخلال بواجب الانسان في دينه ودنياه اھ (۴/ ۴۳۶) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالواحداسلم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 11915کی تصدیق کریں
0     188
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • دورانِ تلاوت بلند آواز میں ٹی وی چلانے والا کا حکم

    یونیکوڈ   کھیل کود کے آداب و احکام 0
  • اسنوکر کھیلنے کا حکم

    یونیکوڈ   کھیل کود کے آداب و احکام 0
  • فارغ اوقات میں بطورِ تفریح کمپیوٹر گیم کھیلنے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   کھیل کود کے آداب و احکام 0
  • روزہ میں کس طرح کا گیم کھیل سکتے ہیں؟

    یونیکوڈ   کھیل کود کے آداب و احکام 0
  • لڈو کھیلنے کا حکم

    یونیکوڈ   کھیل کود کے آداب و احکام 0
Related Topics متعلقه موضوعات