السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مفتی صاحب! میرا سوال موجودہ نظامِ حکومت کے بارے میں ہے، کیا جمہوریت حرام اور کفر کا نظام ہے، دوسری بات ’’حزب التحریر‘‘ نام کی ایک سیاسی جماعت ہے جو خلافت کی قیام کی محنت کر رہی ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ مسائل کا حل خلافت کا قیام ہے ان کے بارے میں ہمارے علمائے کرام کیا فرماتے ہیں؟ ذرا تفصیل سے جواب دیں۔
جمہوریت کا لفظ اکثریتی پارٹی کی حکومت کے لیے مستعمل ہے اور یہ عموماً بطور لاحقہ استعمال ہوتاہے اور فی نفسہٖ اس پر کوئی حکم نہیں لگ سکتا، البتہ سابقہ ملاکر اسپر حکم لگے گا، اب اگر سابقہ مغربی ہو تو یہ مغربی جمہوریت شریعت سے متصادم ہے اور اسلامی ہو تو اسلامی جمہوریت کہلائے گی جو مسلمانوں کی اسلام پر مبنی نظریات والی اکثریتی جماعت کا نام ہوگا اور اس کے جائز ہونے میں کسی مسلمان کو شبہ نہیں ہونا چاہیے، اس لیے مطلقاً جمہوریت کا نام سن کر اس پر کفر اور حرمت کا حکم لگادینا، درست نہیں، جبکہ ’’حزب التحریری‘‘ جماعت کا بانی کون ہے؟ اس کے نظریات اور مقاصد کیا ہیں؟ اور خلافت سے ان کی کیا مراد ہے؟ ان تنقیحات کا جواب لکھ کر بھیج دیا جائے تو اس کے حکمِ شرعی پر بھی غور کیا جاسکتاہے۔ واللہ اعلم بالصواب!
مسلمانوں کے بادشاہ-حاکم اور عام مسلمانوں کے لۓ دین کے کس قدر علم کا حصول ضروری ہے؟
یونیکوڈ سیاسی مسائل 0