کیا حضرت یعقوب کے بارے میں یہ واقعہ مستند ہے ؟اور اگر مستند ہے تو کس کتاب میں موجود ہے؟ بہت سے لوگ اس کو منگھڑت کہتے ہیں،واقعہ مولانا طارق جمیل صاحب کے بیان میں کچھ یوں سنا ہے کہ جب حضرت یوسف کی ملاقات حضرت یعقوب سے ہوئی اور ان کی آنکھ کی روشنی واپس لوٹ آئی ،تو اللہ تعالی نے پوچھا کہ اے یعقوب ! آپ کو معلوم ہے کہ آپ کو یوسف سے ۳۰ سال جدا کیوں رکھا؟ کیونکہ جب یوسف چھوٹا تھا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے اور یوسف آپ کے پاس لیٹا ہوا رورہاتھا تو تمہاری نظر نماز میں یوسف کی طرف چلی گئی تھی اور تمہارا دھیان بھی نماز سے ہٹ کر یوسف کی طرف چلا گیا تھا تو میری غیرت کو جلال آیا اور ہم نے وہ آنکھ بھی لے لی جو نماز سے ہٹ کر یوسف کی طرف گئی اور یوسف بھی لے لیا۔ برائے مہربانی اس کی وضاحت کر دیں۔
درج ذیل معتمد کتب تفاسیر سے بھی حضرت یعقوب علیہ السلام کی طرف منسوب واقعہ کی صحت معلوم ہوتی ہے،جبکہ حضرت یعقوب اور حضرت یوسف کے درمیان جدائی کتنی مدت تک رہی، اس بارے میں مفسرین کے اقوال مختلف ہیں جو اٹھارہ سال کی مدت سے لے کر ستانوے سال کی مدت کو شامل ہیں۔
كما في الجامع لأحكام القرآن: وقيل : إن يعقوب كان يصلي ويوسف نائما معترضا بين يديه فغط في نومه فالتفت يعقوب إليه ثم غط ثانية فالتفت إليه ثم غط ثالثة فالتفت إليه سرورا به وبغطيطه فأوحى الله تعالى إلى ملائكته : انظروا إلى صفيي وبن خليلي قائما في مناجاتي يلتفت إلى غيري وعزتي وجلالي لأنزعن الحدقتين اللتين التفت بهما ولأفرقن بينه وبين من التفت إليه ثمانين سنة ليعلم العاملون أن من قام بين يدي يجب عليه مراقبة نظري اھ (9/ 248)۔
و في تفسير روح المعاني: واختلفوا في مقدار المدة بين الرؤيا وظهور تأويلها فقيل: ثماني عشرة سنة، وأخرج عبد الله بن أحمد في زوائد الزهد عن الحسن أن المدة ثمانون سنة، وأخرج ابن جرير عن ابن جريج أنها سبع وتسعون سنة، وعن حذيفة أنها سبعون سنة، وأخرج ابن أبي حاتم عن قتادة أنها خمس وثلاثون سنة، وأخرج جماعة عن سلمان الفارسي أنها أربعون سنة وهو قول الأكثرين اھ (7/ 58)۔
حضرت تھانویؒ، حضرت گنگوہی اور حاجی امداد اللہ صاحبؒ کو بریلوی کہہ کر ان کی کتابیں پڑھنے سے منع کرنا
یونیکوڈ اکابر حضرات" 1