السلام علیکم!مفتی صاحب! درج ذیل مسائل کے بارے میں رہنمائی فرمادیں:
(۱) جنت میں حور کےساتھ شادی ہوگی یا صرف خدمت کیلیے ملیں گی؟
(۲) اگر جنت میں مرد کی شادی حور کے ساتھ ہوگی تو عورت کو کیا ملے گا؟
(۳) اگر کوئی عورت یہ کہے کہ جنت میں اس کے ساتھ وہ مرد ہو جو دنیا میں اس کا خاوند ہے اور اس مرد کو حور نہ ملے صرف وہی عورت ملے، تو اس کا کیا جواب دیا جائے؟
(۱) جنت میں حوروں کے ساتھ شادی ہوگی۔ خدمت کیلیے خادم غلام ہوں گے۔
(۲) جو عورت شادی شدہ ہوگی وہ اس کے شوہر ہی کو ملے گی، جبکہ غیر شادی شدہ جس جنتی مرد سے شادی کرنا چاہے گی۔ اللہ اس سے اس کی شادی کرادینگے۔
(۳) جنت میں جنتیوں کے دلوں سے اللہ تعالیٰ نفرتیں، عداوتیں، حسد، کینہ اور بغض وغیرہ سب کچھ نکال دیں گے، جس کی وجہ سے کسی عورت کے دل میں یہ خیال بھی نہیں آئے گا کہ میرے شوہر کو حور نہ ملے۔
ففي روح المعاني في تفسیر الآلوسي: (وزوجناھم بحور عین) والمراد على ما قال غير واحد وقرناهم بحور عين(ٳلی قوله) وقد أخرج ابن جرير وغيره عن مجاهد أنه قال: زوجناهم أنكحناهم اھ (۱۳/۱۳۵)۔
وفیه ٲیضا: (ویطوف علیھم) ٲي للخدمة (ولدان مخلدون)ٲي دائمون على ما هم فيه من الطراوة والبهاء (ٳلی قوله) وجاء في حديث أخرجه ابن مردويه عن أنس مرفوعا: «إنهم ألف خادم»وفي بعض الآثار أضعاف ذلك اھ (۲۹/۱۶۱)۔
وفي مجموعة الفتاوی: ولو ماتت قبل ٲن تتزوج تخیر ٲیضا، ٳن رضیت بآدمي زوجت منه وٳن لم ترض فاللہ یخلق ذکرا من الحور العین فیزوجھا منه اھ (۱/۱۱۵، مکتبة: میر محمد)۔
وفي روح المعاني في تفسیر الآلوسي: (ونزعنا مافي صدورھم من غل) (ٳلی قوله) وقيل: معنى الآية طهر الله تعالى قلوبهم من أن يتحاسدوا على الدرجات في الجنة ونزع سبحانه منها كل غل وألقى فيها التواد والتحاب، والآية ظاهرة في وجود الغل في صدورهم قبل النزع اھ (۸/۵۸) واللہ أعلم بالصواب!
محض مسلم یا غیر مسلم گھرانے میں پیدا ہونے کی وجہ سے جنتی یا جہنمی ہونے کا اطلاق نہیں ہوتا
یونیکوڈ جنت 0