شوہر نے حق مہر کے بدلے زمین دی۔ شادی کےبعد شوہر نے اس پر مکان بنایا۔ بیوی نے طلاق مانگی اور مہر کی زمین کے ساتھ مکان کا بھی مطالبہ کیا۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا وہ مکان کی بھی حقدار ہے باوجود اس کے کہ وہ شوہر نے تعمیر کیا تھا یا صرف زمین کی؟
صورتِ مسئولہ میں شوہر کی طرف سے حق مہر کے عوض دی گئی زمین پر مکان تعمیر کرتے وقت اگر شوہر کی جانب سے بیوی کو صراحت کی گئی ہو کہ مکان تمہارا ہے، پھر تو بیوی اس مکان کی مالک ہے اور وہ اپنے مذکور مطالبہ میں حق بجانب ہے۔ بصورتِ دیگر اگر اس نے بیوی کی اجازت سے بیوی کے لئے مکان تعمیر کیا ہو تو اس صورت میں مکان بیوی کا ہوگا اور اس کے ذمہ ،شوہر کو تعمیر پر آنے والے تمام اخراجات کی ادائیگی لازم ہوگی۔ لیکن اگر شوہر نے بیوی کی اجازت سے یا بغیر اجازت کے اپنے لئے مذکور مکان تعمیر کیا تھا تو ایسی صورت میں پلاٹ کی ملکیت بیوی کی ہوگی، جبکہ تعمیر کا مالک اس کا شوہر ہوگا۔ البتہ اس صورت میں بیوی کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ شوہر سے کہہ دے کہ مجھے میری زمین فارغ کرکے دے دو اور اپنی تعمیر ہٹا دو یا دونوں باہمی رضامندی سے تعمیر کی ،بحیثیت ملبہ ، موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق قیمت طے کرلیں اور پھر بیوی شوہر کو وہ قیمت ادا کرکے زمین کے ساتھ مکان کی مالک بھی بن جائے۔
کما فی جامع الفصولین: عمر دار امرأته فمات وتركها وابنا فلو عمرها بإذنها فالعمارة لها والنفقه دين عليها فتغرم حصة الإبن، ولو عمرها لنفسه بلا إذنها فالعمارۃ ميراث عنه وتغرم قيمة نصيبه من عمارة وتصير كلها لها ولو عمرها لها بلا إذنها قال النسفي العمارة لها ولا شيء عليها من النفقه فإنه متبرع. الخ (الفصل الرابع والثلاثون في الأحكام ج:2 ص:220۔221 ط: سعيد كراتشى باکستان)۔
و فی البحر الرائق: قال رحمه الله (ولو عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها؛ لأن الملك لها) وقد صح أمرها بذلك فينتقل الفعل إليها فتكون كأنها هي التي عمرته فيبقى على ملكها وهو غير متطوع بالإنفاق فيرجع لصحة أمرها فصار كالمأمور بقضاء الدين قال رحمه الله (ولنفسه بلا إذنها فله) أي إذا عمر لنفسه من غير إذن المرأة كانت العمارة له؛ لأن الآلة التي بنى بها ملكه فلا يخرج عن ملكه بالبناء من غير رضاه فيبقى على ملكه ويكون غاصبا للعرصة وشاغلا ملك غيره بملكه فيؤمر بالتفريغ إن طلبت زوجته ذلك قال رحمه الله (ولو عمرها لها بلا إذنها فالعمارة لها وهو متطوع) أي عمرها لها بغير إذنها كان لها البناء وهو متطوع بالبناء فلا يكون له الرجوع عليها به؛ لأنه لا ولاية له في إيجاب ذلك عليها. الخ(مسائل شتى ج:8 ص:553 ط: دار الكتاب الإسلامي)۔
و فی درر الحكام شرح غرر الأحكام:(صح الإعارة) أي إعارة الأرض (للبناء والغرس) ؛ لأن منفعتها معلومة تملك بالإجارة فتملك بالإعارة (وله) أي للمعير (أن يرجع) ؛ لأن الإعارة ليست بلازمة (ويكلف قلعهما) أي البناء والغرس؛ لأنه شاغل أرضه بملكه فيؤمر بالتفريغ إلا إذا شاء أن يأخذهما بقيمتهما إذا استضرت الأرض بالقلع فحينئذ يضمن له قيمتهما مقلوعين ويكونان له كي لا تتلف أرضه عليه ويستبد ذلك به؛ لأنه صاحب أصل، وإذا لم تستضر به لا يجوز الترك إلا باتفاقهما ولا يشترط الاتفاق في القلع بل أيهما طلبه أجيب (وضمن رب الأرض ما نقص) البناء والغرس بالقلع (إن وقت) لعارية؛ لأنه مغرور من جهته حيث وقت له والظاهر هو الوفاء بالعهد فيرجع عليه دفعا للضرر عن نفسه (وكره) أي الرجوع (قبله) أي قبل وقت عين؛ لأن فيه خلف الوعد. الخ (کتاب العاریۃ اعارۃ الارض للبناء ج:2 ص:243 ط: دار احیاء الکتب العربیۃ)۔