میری شادی کو ایک سال مکمل نہیں ہوا، تاہم جو زیورات میری بیوی ساتھ لائی ہے اُن کو خریدے ایک سال ہو چکا ہے، اس صورت میں میری بیوی کے زیورات پر زکوٰۃ اداء کرنی ہوگی جبکہ میری شادی کو صرف چھ ماہ ہوئے ہیں۔
اگر یہ زیورات آپ کی بیوی کی ملک ہیں اور اس کی ملک میں آئے ہوئے قمری پورا سال گزر چکا ہو یا وہ پہلے سے صاحب نصاب ہو تو اس صورت میں جب نصاب کا سال پورا ہو تو اس پر ان تمام زیورات اور دیگر اموال زکویہ کی کل مالیت کا چالیسواں حصہ بطور زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے، اس سے پہلے لازم تو نہیں مگر ادا کرنا جائز ہے۔
كما في الدر المختار: (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) اھ (2/ 259)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: وكذا لو عجل) التشبيه راجع إلى المسألة الأولى وهي التعجيل لسنة أو سنين؛ لأنه إذا ملك نصابا وأخرج زكاته قبل أن يحول الحول كان ذلك تعجيلا بعد وجود السبب لكونه أداء قبل وقت وجوبه اھ (2/ 293) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم بالصواب