بسم اللہ الرحمٰن الرحیم،السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
تاریخ: 20 مئی 2026
میرا نام شمس اللہ ہے اور میں کراچی سے ہوں۔
مجھے خرگوش پالنے کا شوق ہے اور میں ان کے کھانے پینے، صفائی ستھرائی اور علاج معالجے کا مکمل خیال رکھتا ہوں۔
اکثر لوگ مجھ سے کہتے ہیں کہ خرگوش پالنے سے گھر میں رزق کی کمی، تنگ دستی اور بے برکتی آتی ہے۔
اس حوالے سے میں رہنمائی چاہتا ہوں کہ:
اسلام میں خرگوش پالنا جائز ہے یا نہیں؟
کیا خرگوش پالنے سے واقعی رزق یا گھر کی برکت پر کوئی اثر پڑتا ہے؟
قرآن و سنت کی روشنی میں اس بارے میں درست رہنمائی فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً
واضح ہوکہ خرگوش ایک حلال جانورہے، جسےگھرپر پالناشرعاً جائز ہے، بشرطیکہ اس کے کھانے پینے، رہائش، صفائی اور علاج معالجہ کا مناسب اہتمام کیا جائے اور اسے بلاوجہ تکلیف نہ دی جائے۔
جہاں تک یہ بات مشہور ہے کہ خرگوش پالنے سے گھر میں رزق کی کمی، تنگ دستی یا بے برکتی آتی ہے، تو قرآن و سنت میں اس دعوے کی کوئی اصل اور بنیاد موجود نہیں۔ایسی باتیں محض عوامی توہمات اور بے بنیاد تصورات ہیں ،جن کی طرف التفات سے گریزکیاجائے۔
البتہ اگر جانور پالنے کی وجہ سے انسان اپنے ضروری فرائض، اہل و عیال کے حقوق یا دیگر شرعی ذمہ داریوں سے غافل ہو جائے، یا جانوروں کی نگہداشت میں ظلم و کوتاہی کرے، تو یہ قابلِ مواخذہ بات ہوگی۔جس سے بچنابہرصورت لازم وضروری ہے ،چنانچہ سائل اگرخرگوش یادیگرپالتوجانوروں کی نگہداشت کامناسب انتظام وبندوبست کرسکتاہو،تواس کےلیے گھرپرخرگوش پالنے کی گنجائش ہے۔
کمافی صحيح البخاري» :عن أنس رضي الله عنه قال:أنفجنا أرنبا بمر الظهران، فسعى القوم فلغبوا، فأدركتها فأخذتها، فأتيت بها أبا طلحة فذبحها، وبعث بها إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم: بوركها وفخذيها، قال: فخذيها لا شك فيه، فقبله. قلت: وأكل منه؟ قال: وأكل منه، ثم قال بعد: قبله.»(2/ 909)
وفي عمدة القاري شرح صحيح البخاري» :فإن أصحابنا قالوا: لا خلاف فيه لأحد من العلماء قال الكرخي: ولم يروا جميعا بأسا بأكل الأرنب، وأنه ليس من السباع ولا من أكلة الجيف.»(21/ 136)
وفي حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» :قال في المجتبى رامزا: لا بأس بحبس الطيور والدجاج في بيته، ولكن يعلفها وهو خير من إرسالها في السكك اهـ(6/ 401)
جمعرات اور مغرب کے بعد حاملہ خاتون کو گھر سے نکلنے سے منع کرنے کی حقیقت
یونیکوڈ توہم پرستی اور بدفالی 0