سیونگ سرٹیفکیٹس

قومی بچت میں پیسے جمع کروانے پر ملنے والے منافع کا حکم

فتوی نمبر :
95338
| تاریخ :
2026-05-14
جدید فقہی مسائل / جدید معاشیات / سیونگ سرٹیفکیٹس

قومی بچت میں پیسے جمع کروانے پر ملنے والے منافع کا حکم

السلام علیکم !
مجھے یہ بتائیے گا کہ قومی بچت اسکیم میں جو پیسے جمع کر وہاں سے اس کا ماہانہ پرافٹ لیتے ہیں وہ حلال ہوتا ہے یا حرام ہوتا ہے؟شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

قومی بچت(نیشنل سیونگ)اسکیم کے معاملات چونکہ سودی معاملات پر مشتمل ہوتے ہیں اس لئے قومی بچت اسکیم میں پیسے جمع کر کے منافع حاصل کرنا جائز نہیں جس سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالٰی: الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (275)سورۃ البقرۃ)۔
وفی صحیح البخاری: باب آكل الربا وشاهده وكاتبه وقوله تعالى: {الذين يأكلون الربا لا يقومون إلا كما يقوم الذي يتخبطه الشيطان من المس ذلك بأنهم قالوا: إنما البيع مثل الربا، وأحل الله البيع وحرم الربا، فمن جاءه موعظة من ربه فانتهى فله ما سلف وأمره إلى الله، ومن عاد فأولئك أصحاب النار هم فيها خالدون} [البقرة: 275](ج3 صـ59 ط: دار طوق النجاۃ)۔
و فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:ويلاحظ أن إيداع المال في صندوق التوفير، وشهادات الاستثمار يطبق عليه حكم القرض أو السندات الحكومية أو ما يسمى بسندات الخزينة، وتدفع الدولة فوائد ربوية على أرصدة صندوق التوفير، وتتملك الأرصدة، وتتصرف فيها، وتستفيد منها في عمليات الإقراض الربوي. فلا تحل الفائدة التي يدفعها الصندوق لواضعي أموالهم فيها، إذ ليست العلاقة مجرد وديعة كما زعم بعض المفتين، إذ لو كان هذا المال وديعة محضة، لما جاز شرعاً للقائمين على هذا الصندوق أن يستغلوه ويستثمروه في الأعمال، إذ الذي يملكه الوديع من الوديعة حفظها فقط، لا التصرف فيها، لكن المودع إذا أذن بالتصرف في الوديعة كانت قرضاً، لأن العبرة للمعاني والبنك يملك المال المودع لديه، ويتعهد برد المثل، وكذلك الربح المقطوع المحدد بفائدة سنوية معينة في شهادات الاستثمار ليس مشروعاً؛ إذ لا يجوز ذلك في الشركات وبخاصة شركة المضاربة، وطريق الجواز: أن يكون الربح غير محدد المقدار وأن يتفق على المساهمة في الخسارة الحادثة لو وقعت الخسارة أثناء الاستثمار في مشروع معين۔(ج:5،ص:3797)
وفی مجلۃ مجمع الفقہ الاسلامی:ومما تقدم يتضح أن أمامنا في هذه الحلقة الدارسة ثلاثة أنواع من السندات المالية أحدها: السندات المالية الصادرة من الحكومات أو البنوك المركزية أو المؤسسات العامة لغرض تمويل مشروع ما أو تنشيط الحركة الاقتصادية وهي موضع اتفاق بين فقهاء المسلمين على أنها ليست من قبيل شركات المضاربة – القراض – وأنها قروض تلتزم بها الذمة الاعتبارية التي قامت بإصدارها وأنها تنتج فوائد ربويۃ(ج:4،ص:1484)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سلیم اللہ علیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95338کی تصدیق کریں
0     28
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • قومی بچت اکاؤنٹ کے منافع حاصل کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   سیونگ سرٹیفکیٹس 0
  • نیشنل سیونگ سرٹیفیکیٹ کے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   سیونگ سرٹیفکیٹس 0
  • نیشنل سیونگ سر ٹیفیکیٹس خریدنا اور اس کے منافع وصول کرنے کاحکم

    یونیکوڈ   سیونگ سرٹیفکیٹس 0
  • نیشنل سیونگ اسکیم کا حکم

    یونیکوڈ   سیونگ سرٹیفکیٹس 0
  • قومی بچت میں بہبود سیونگ سرٹیفکیٹس لینے اور اس پر منافع لینے کا حکم

    یونیکوڈ   سیونگ سرٹیفکیٹس 0
  • BLESSED FRIDAY سے شوپنگ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   سیونگ سرٹیفکیٹس 0
  • گورنمنٹ کی بہبود سرٹیفکیٹ اسکیم میں شمولیت کرکے منافع کمانا

    یونیکوڈ   سیونگ سرٹیفکیٹس 0
  • قومی بچت کے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   سیونگ سرٹیفکیٹس 0
  • قومی بچت میں انویسٹمنٹ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   سیونگ سرٹیفکیٹس 0
  • قومی بچت میں پیسے جمع کروانے پر ملنے والے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   سیونگ سرٹیفکیٹس 0
Related Topics متعلقه موضوعات