زکوۃ و نصاب زکوۃ

مشترکہ ترکہ کی مویشیوں میں زکوۃ کیسے ادا کی جائے؟

فتوی نمبر :
95147
| تاریخ :
2026-05-10
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

مشترکہ ترکہ کی مویشیوں میں زکوۃ کیسے ادا کی جائے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
سلام مسنون کے بعد عرض یہ ہے کہ ایک گھر میں پانچ (5) بھائی ایک ساتھ رہتے ہیں ،ان کے والد کا انتقال ہوچکا ہے،اور یہ سب بھائی شادی شدہ ہیں ، یہ ایک بڑی فیملی ہے ،سب ایک ساتھ کاروبار کرتے ہیں ، ایک ساتھ کھاتے پیتے ہیں ، ان کی غم شادی سب ایک ساتھ ہیں ،ان کا کاروبار کھیتی باڑی اور مال مویشی ہے ،بھیڑ بکری ،والد کی وفات کے بعد ان کی بہنوں نے ان کو اپنا حصہ بخش دیا ،یعنی اس مال میں ان کا جو حصہ بنتا تھا وہ انہوں نے اپنے بھائیوں کو دے دیا ،اب مسئلہ یہ ہے کہ ان بھیڑ بکریوں سے ایک ساتھ زکوۃ نکالے ،یا پہلے تقسیم کرے اور ہر بھائی اپنے حصے کے بقدر زکوٰۃ ادا کرے ،مثلاً (350) بھیڑ بکری ہے ،اب اس میں مشترکہ طور پر تین بکری زکوٰۃ میں دینے ہونگے ،لیکن اگر ان کو تقسیم کرے تو ہر بھائی کے حصے میں (70)بکریاں آتی ہیں ، تو اس صورت میں پھر پانچ بکری زکوٰۃ میں دینی ہونگی،اسی طرح کھیتی باڑی کا بھی یہی مسئلہ ہے،اب ان کی زکوٰۃ کس طرح ادا کی جائے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ شریعت مطہرہ نے زکوٰۃ کے وجوب میں ہر آدمی کی اپنی ملکیت کا اعتبار کیا ہے،جو آدمی صاحب نصاب ہوگا اس پر اپنے نصاب کے بقدر زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہوگی ،لہذا صورت مسئولہ میں مذکور مالِ مشترک میں چونکہ ہر شریک کا حصہ نصاب زکوٰۃ کو پہنچ رہا ہے، اس لیے سال پورا ہونے پر ہر ایک شریک پر الگ الگ اپنے حصے کے بقدر زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے،کھیتی باڑی کا بھی یہی حکم ہے کہ ہر آدمی پر اپنے حصے کا عشر دینا لازم ہے ،البتہ بہنوں کا اپنا حصہ میراث بخش دینے کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر یہ بخش دینا تقسیم میراث اور ہر وارث کا اپنے حصے پر قبضہ کرنے کے بعد ہو تب تو معتبر ہوگا، لیکن اگر تقسیم میراث سے پہلے محض زبانی طور پر بخش دیا ہو تو شرعاً اس کا کوئی اعتبار نہیں بلکہ بہنوں کا حق اب بھی اس متروکہ مال وجائیداد میں برقرار ہوگا،لہذا اگر بہنیں واقعۃً برضا وخوشی اپنا اپنا حصہ بھائیوں کو دینا چاہتی ہوں،تو اس کی درست صورت یہ ہے کہ والد مرحوم کا ترکہ تقسیم کر کے ہر ہر وارث بشمول بہنوں کو ان کا حصہ الگ کر کے باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ حوالہ کر دیا جائے پھر بہنوں میں سے جو بہن اپنا حصہ بھائیوں کو دینا چاہے وہ ان بھائیوں میں اپنا حصہ تقسیم کر کے ہر ایک کو اس کے حصہ پر مستقل قبضہ بھی دیدے ،اس سے یہ ہبہ تام ہو کر ہر بھائی اسے دیے گئے حصے کا مالک ہوجائے گا ،جس میں اس کا تصرف کرنا بھی جائز ہوگا،البتہ اس ہبہ کے لئے بہنوں پر دباؤ ڈالنا شرعاً جائز نہیں،جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی رد المحتار: فما زاد على أربعين شاة مثلا إلى المائة والعشرين لا شيء فيه إذا اتحد المالك، فلو مشتركة بين ثلاثة أثلاثا فعلى كل شاة. قال في البحر: ولو كانت لرجل فليس للساعي أن يفرقها ويجعلها أربعين أربعين، فيأخذ ثلاث شياه؛ لأنه باتحاد المالك صار الكل نصابا، ولو كان بين رجلين أربعون شاة لا تجب على واحد منهما الزكاة، وليس للساعي أن يجمعها ويجعلها نصابا ويأخذ الزكاة منها؛ لأن ملك كل واحد منهما قاصر عن النصاب اھ(باب زكاة الغنم،ج: 2،ص: 281،مط: دار الفکر)
و فی البدائع: قال أصحابنا: إنه يعتبر في حال الشركة ما يعتبر في حال الانفراد وهو كمال النصاب في حق كل واحد منهما فإن كان نصيب كل واحد منهما يبلغ نصابا تجب الزكاة وإلا فلا اھ(كتاب الزكاة،فصل نصاب الغنم،ج: 2،ص: 29،مط: دار الکتب العلمیه)
و فی الاٰشباہ و النظائر: لو قال الوارث : تركت حقي لم يبطل حقه إذ الملك لا يبطل بالترك،اھ (باب ما يقبل الإسقاط من الحقوق وما لا يقبله،ص: 272،مط: دار الکتب العلمیه)
و فی الدر: (و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول)(الی قولہ)(وحكمها: ثبوت الملك للموهوب له غير لازم) فله الرجوع والفسخ اھ(كتاب الهبة،ج: 5،ص: 560،مط: دار الفکر)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سید قدرت اللہ یار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95147کی تصدیق کریں
0     63
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات