کیا فرماتے ہیں مفتیان کرا م مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک پیش امام کا بیٹا ہوں ،میں سبزی بیچ کر گزارہ کرتا ہوں اور ایک مدرسے کا خادم بھی ہوں، اور فی سبیل اللہ اس مدرسے کی خدمت کرتاہوں مجھے کوئی تنخواہ نہیں ملتا ، میرے پانچ بہنیں اور چھ بیٹیاں ہے،ان میں سے سنت کے مطابق ایک بہن اور اور تین بیٹیوں کی عید کے ایک مہینہ بعد شادی کرنی ہے، اور شادی طے بھی ہوگئی ہے، اور ہمارے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی اور وہ تمام چیزیں بھی نہیں ہے جن پر زکوٰۃ واجب ہے اور گھر بھی کرائے کا ہے،اور میرے تین بیٹے بھی ہے،میری چھوٹی بیٹی شدید بیمار ہے،ڈاکٹروں کے مطابق ہم لو گ اسے جناح ہسپتال لے گئے تھے انہوں نے بتایا کہ اس کے دماغ میں ٹی بی کے جراثیم ہے،جسکی وجہ سے ٹی بی کا آپریشن کرایا گیا،اب اسکے دماغ میں وہ ٹی بی ہنرو مشین بھی لگوایا ہے، میرے پاس کوئی جائیداد وغیرہ نہیں ہے، اور مجھ پر 480000 کا قرضہ بھی ہے۔
دریافت طلب بات یہ ہے کہ اس صورت حال میں کیا میں زکوٰۃ کا مستحق ہوں یا نہیں؟اور میں سید بھی نہیں ہوں میرے پاس جوکچھ تھا وہ پچھلے ایک سال چار ماہ میں اپنی بیٹی کے علاج میں خرچ کرچکا ہوں۔
صورت مسئولہ میں بیان کردہ تفصیل کے مطابق سائل زکوٰۃ کا مستحق شمار ہوگا، اور اس کیلئے اپنی جملہ ضروریات کے پیش نظر زکوٰۃ وصول کرنے کی بھی شرعاً گنجائش ہے۔
کما فی الرد : (قوله: أي دون نصاب) أي نام فاضل عن الدين، فلو مديونا فهو مصرف كما يأتي (قوله: مستغرق في الحاجة) كدار السكنى وعبيد الخدمة وثياب البذلة وآلات الحرفة وكتب العلم للمحتاج إليها تدريسا أو حفظا أو تصحيحا كما مر أول الزكاة.
والحاصل أن النصاب قسمان: موجب للزكاة وهو النامي الخالي عن الدين. وغير موجب لها وهو غيره، فإن كان مستغرقا بالحاجة لمالكه أباح أخذهما وإلا حرمه وأوجب غيرهما من صدقة الفطر والأضحية ونفقة القريب المحرم كما في البحر وغيره. .(کتاب الزکوٰۃ،باب مصرف الزکاۃ والعشر،ج:2،ص:339،ط سعید)