زوجہ مفقود

لاپتہ شوہر کی بیوی کا نکاح ختم کرنے کا طریقہ

فتوی نمبر :
94084
| تاریخ :
2026-04-12
معاملات / احکام طلاق / زوجہ مفقود

لاپتہ شوہر کی بیوی کا نکاح ختم کرنے کا طریقہ

محترم مفتیان کرام، السلام علیکم ورحمۃ الله وبركاتہ،
بعد از سلام عرض ہے کہ میرا نام شازیہ بنت وریام ہے۔ میری شادی شرعی طور پر تقریباً گیارہ (11) سال قبل ہوئی تھی۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد میرے شوہر مجھ سے ناراض ہو کر گھر سے چلے گئے۔ جاتے وقت انہوں نے یہ الفاظ کہے کہ : " میں اپنی بیوی کو بس اسی طرح ستانا چاہتا ہوں"۔
اس کے بعد آج تک ( تقریباً آٹھ سال گزر چکے ہیں) ان کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔ میں نے اپنی استطاعت کے مطابق پورے ملک میں ان کی تلاش کی، مگر کہیں سے بھی ان کے بارے میں کوئی خبر یا سراغ نہیں مل سکا۔ نہ انہوں نے کوئی رابطہ کیا، نہ نان و نفقہ دیا، اور نہ ہی ازدواجی حقوق ادا کیے۔
اس طویل عرصے میں میں شدید ذہنی، معاشرتی اور مالی مشکلات کا شکار رہی ہوں۔ اب میری خواہش ہے کہ شریعت مطہرہ کے مطابق اس نکاح کو ختم (نسخ) کر کے اپنی نئی زندگی شروع کروں اور کسی مناسب جگہ نکاح کر سکوں۔
لہذا آپ حضرات سے گزارش ہے کہ درج ذیل سوالات کے جوابات از روئے قرآن وسنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں عنایت فرمائیں،
(1) ذکورہ صورتحال میں جبکہ شوہر آٹھ سال سے لاپتہ ہے اور کوئی خبر نہیں، کیا نکاح کو فتح کروایا جا سکتا ہے ؟
(2) اس مقصد کے لیے شرعی طریقہ کار کیا ہو گا؟ ( عدالت / دار القضاء / گواہوں وغیرہ کی تفصیل )
(3) عدت کے متعلق کیا حکم ہو گا ؟
(4) کیا میں دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہوں ؟ اگر ہاں، تو کن شرائط کے ساتھ ؟
آپ حضرات کی رہنمائی میرے لیے باعث اطمینان ہو گی۔
نوٹ: خاندان والوں نے اپنے طور پر تلاش کیا لیکن کسی قسم کی قانونی کاروائی اور پولیس وغیرہ میں رپورٹ نہیں لکھوائی۔جزاکم اللہ خیراً۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں سائلہ کےلئے اصل حکم تو یہ ہے کہ اگر وہ صبر کرکے اپنا زمانہ عفت اور پاک دامنی کے ساتھ گزارسکے تو بہتر ہے، اگر صبر نہ کرسکے تو بوقتِ ضرورتِ شدیدہ (کہ خرچ وغیرہ کا انتظام نہ ہوسکے یا بلا شوہر کے رہنے میں مبتلائے معصیت ہونے کا شدید خطرہ ہو) یہ گنجائش ہے کہ صورتِ ذیل اختیار کرکے مفقود کے نکاح سے رہائی حاصل کرے۔
وہ صورت یہ ہے کہ سائلہ اپنا مقدمہ مسلمان جج کی عدالت میں پیش کرے اور شہادتِ شرعیہ کے ذریعہ ثابت کرے کہ میرا نکاح فلاں شخص کے ساتھ ہوا تھا، اس کے بعد گواہوں سے اس کا مفقود اور لا پتہ ہونا ثابت کرے کہ تقریباً آٹھ سال سے میرا شوہر لاپتہ ہے اور اس نے کوئی نان نفقہ نہیں چھوڑا اور نہ کسی کو نفقہ کا ذمہ دار بنایا،اور میں نے اپنا نفقہ معاف بھی نہیں کیا اور عورت ان باتوں کو گواہوں کی گواہی سے ثابت کرے،اور اگر گناہ کا اندیشہ ہے تو عورت اس پر قسم بھی اٹھائے،اس کے بعد جج خود اپنے طور پر مفقود کی تفتیش و تلاش کرے، جہاں جہاں مفقود کے جانے کا غالب گمان ہو ،وہاں آدمی بھیجا جائے اور جس جس جگہ جانے کا غالب گمان نہ ہو ،وہاں اگر خط کو کافی سمجھے تو خطوط بھیجے اور اگر اخبارات میں شائع کردینے سے خبر ملنے کی امید ہو تو یہ بھی کرے، الغرض تفتیش و تلاش میں پوری کوشش اور جہدِ بلیغ کرے، اور جب تلاش کے بعد مفقود کا پتہ چلنے سے مایوسی ہوجائے تو عورت کو چار سال تک مزید انتظار کا حکم کرے، پھر ان چار سالوں کے اندر بھی مفقود کا پتہ نہ چلے تو عورت حاکم کے پاس دوبارہ درخواست پیش کردے جس پر حاکم اس کے شوہر کے مردہ ہونے کا فیصلہ سنادے، اس کے بعد چار ماہ دس دن عدتِ وفات گزار کر عورت کو دوسری جگہ نکاح کرنے کا اختیار ہوگا، البتہ اگر سائلہ كىلئے چار سال تك انتظار كرنا مشكل ہو اور وه عدالت میں زنا میں مبتلا ہونے کا شدید خطرہ ظاہر کرے اور اس نے ایک عرصہ دراز تک مفقود کا انتظار کرنے کے بعد مجبور ہوکر اس حالت میں درخواست دی ہو، جبکہ وہ صبر سے عاجز آگئی ہو تو اس صورت میں اس کی بھی گنجائش ہے کہ ایک سال کے انتظار کے بعد تفریق کردی جائے اور اس صورتِ میں یہ تفریق طلاقِ بائن کہلائے گی،البتہ حاکم کے پاس جانے سے قبل جو وقت گزار دیا، اس کا اعتبار نہ ہوگا، نیز عورت حاکم کے فیصلہ کے بغیر خود بخود سابق شوہر کے نکاح سے علیحدہ نہیں ہوسکتی اور حاکم کے پاس جب درخواست دے تو حاکم پوری تحقیق کرے اور خود بھی تلاش کرے، اسے انتظار کی مہلت دے، پھر مہلت کی مدّت ختم ہوجانے پر مذکورہ بالا طریقہ اختیار کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في الحیلة الناجزۃ: طریق تطلیق زوجة المفقود أو الغائب الذی تعذر الإرسال إلیه أو ارسل الیه فتعاند إن کان لعدم النفقة فإن الزوجة تثبت بشاھدین، إن فلاناً زوجھا، وغاب عنھا، ولم یترک لھا نفقة، ولا وکیلاً بھا ولا اسقطتھا عنه، وتحلف علٰی ذٰلک، فیقول الحاکم: فسخت نکاحه أو طلقتک منه أو یأمرھا بذٰلک، ثم یحکم به، وھٰذا بعد التلوم بنحو شھر أو بإجتھادہ عند المالکیة، وفوراً أو متراخیاً عند الحنابلة، وبعد ثلاثة أیام عند الشافعیة، وإن کان لخوفھا الزنا وتضررھا بعدم الوطئ والعنا مع وجود النفقة والغنا فبعد صبرھا سنة فأکثر عند جلّ المالکیة، وبعد ستة أشھر عند الحنابلة اھ (ص134، ط: دار الاشاعت).
وفي الدر المختار: إنما يحكم بموته بقضاء لأنه أمر محتمل، فما لم ينضم إليه القضاء لا يكون حجة اهـ (كتاب المفقود، ج4، صـــ297، ط: سعید).
وفی الھدایة: وتکون الفرقة تطلیقة بائنة عند أبی حنیفة ومحمدؒ لأن فعل القاضی انتسب الیه کما فی العنین اهـ (كتاب الطلاق، باب اللعان، ج2، ص271 ط: دار إحياء التراث العربي).

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یعقوب علی معظم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94084کی تصدیق کریں
1     35
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • زوجہ مفقود یا عورت کے لاپتہ شوہر کے احکام

    یونیکوڈ   اسکین   زوجہ مفقود 1
  • زوجۂ مفقود(لاپتہ شخص) کاحکم

    یونیکوڈ   زوجہ مفقود 0
  • مفقود (لاپتہ)شخص کی بیوی دوسرا نکاح کب کرے؟

    یونیکوڈ   زوجہ مفقود 0
  • لاپتہ شوہر کی بیوی کا نکاح ختم کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   زوجہ مفقود 1
Related Topics متعلقه موضوعات