زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوۃ واجب ہونے کا حکم

فتوی نمبر :
93410
| تاریخ :
2026-03-21
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوۃ واجب ہونے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے، میرا زکوٰۃ سے متعلق ایک سوال ہے، امید ہے آپ جلدی جواب عنایت فرمائیں گے، میری شادی 2 نومبر 2024 کو ہوئی تھی، میرے والدین اور بہن بھائیوں نے مجموعی طور پر میری اہلیہ کو 7 تولہ سونا دیا تھا، ان 7 تولہ میں سے 3 تولہ سونا نکاح نامہ میں دلہن کی مکمل ملکیت کے طور پر درج کیا گیا تھا، یہ سونا حقِ مہر کے طور پر درج نہیں تھا، بلکہ شادی کے تحفے کے طور پر (نکاح نامہ کے کالم نمبر 17 میں شرعی شرائط کے تحت) لکھا گیا تھا، یہ سونا میرے والد اور بہن بھائیوں نے خریدا اور دیا تھا، کیونکہ میری اپنی کوئی آمدنی نہیں تھی، لہٰذا یہ میری طرف سے نہیں دیا گیا تھا، اسی طرح تقریباً 3 تولہ سونا میری اہلیہ کو ان کے والدین کی طرف سے بھی دیا گیا تھا، سونے کے علاوہ کپڑے، جوتے اور دیگر اشیاء بھی بطور تحفہ دی گئی تھیں، میں کافی عرصے سے بے روزگار ہوں، دراصل میں پی ایچ ڈی کر رہا ہوں اور اپنی تعلیم میں مصروف ہونے کی وجہ سے ملازمت اختیار نہیں کی، میری اپنی کوئی آمدنی یا ذاتی مال نہیں ہے، میرے بینک اکاؤنٹ میں تقریباً ڈھائی لاکھ روپے موجود ہیں، لیکن یہ رقم میری ملکیت نہیں، بلکہ میرے والد اور بیرونِ ملک مقیم بھائیوں نے مجھے استعمال کے لیے دی ہوئی ہے، میری اہلیہ بھی گھریلو خاتون ہیں اور کوئی ملازمت نہیں کرتی ، میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ 21 مارچ 2026 کے حساب سے، جبکہ میری شادی کو تقریباً ایک سال اور چار ماہ گزر چکے ہیں، مجھ پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟ اگر واجب ہے تو کتنی؟ جزاکم اللہ خیراً۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگر بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم سائل کی ملکیت نہ ہو، بلکہ والد اور بھائیوں کی ملکیت ہواورانھوں نے بوقت ضرورت اس میں سے استعمال کی اجازت دے رکھی ہو، تو اس رقم کی وجہ سے سائل پر زکوٰۃ واجب نہیں ۔
البتہ سائل کے والدین اوربہن ،بھائیوں کی طرف سےاگر اس کی اہلیہ کو بطورتحفہ دئیےگئے سات تولہ سونے پرمالکانہ حقوق کے ساتھ باقاعدہ قبضہ دیدیاگیاہو، خواہ اس سب کااندراج نکاح نامہ کے کالم نمبر (17) میں نہ بھی ہو ، ، تب بھی وہ تمام سونا اہلیہ کی ملکیت شمار ہوگا، لہٰذامذکورسات تولہ سونااور اس کےوالدین کی طرف سے دئیےگئے تین تولہ سونے کی وجہ سے سائل کی بیوی صاحب نصاب شمارہوگی ،چنانچہ اس کے پاس موجود سونے کے علاوہ اگر دیگرقابل زکوٰۃ اموال (چاندی،نقدی،مال تجارت) بھی موجودہوں تو ان سب کوملاکرہرقمری سال کی تکمیل پر ڈھائی فیصد (٪2.5)کے حساب سے زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے۔
البتہ اگرکمزورمعاشی حالات کی وجہ سے یکمشت ساری زکوٰۃ اداکرنےمیں دشواری ہورہی ہوتو آئندہ سال شروع ہونے سے پہلے پہلے سال بھرتھوڑی تھوڑی رقم کی صورت میں بھی زکوٰۃ اداکرنے کی شرعاًگنجائش ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الہدایۃ: " ‌الزكاة ‌واجبة ‌على ‌الحر ‌العاقل البالغ المسلم إذا ملك نصابا ملكا تاما وحال عليه الحول " أما الوجوب فلقوله تعالى: {وَآتُوا الزَّكَاةَ} [البقرة: 43] ولقوله صلى الله عليه وسلم " أدوا زكاة أموالكم " وعليه إجماع الأمة،اھ(کتاب الزکاۃ ،ج:1 ص :95 ناشر: بیروت)
وفى الدر المختار: (وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه اھ (2/ 267)۔
وفی البنایۃ: ‌وإن ‌قدم ‌الزكاة ‌على ‌الحول وهو مالك للنصاب جاز) ش: بأن قدم المالك الزكاة قبل حولان الحول والحال أنه مالك لقدر النصاب جاز تقديمه م: (لأنه أدى بعد سبب الوجوب فيجوز) ش: سبب الوجوب هو النصاب ولأنه حق يؤجل كالدين المؤجل، وبقولنا: قال الشافعي، وأحمد، وإسحاق، وأبو ثور، وهو قول الحسن البصري، والنخعي، والزهري، والثوري، والشعبي، ومجاهد، والحاكم، وابن أبي ليلى، وسعيد بن جبير، والحسن بن حي رحمهم الله م: (كما إذا كفر بعد الجرح) ش: قيد الموت لوجود السبب وهو الجرح (363/3کتاب الزکاۃ باب حکم تقدیم الزکاۃ علی الحول،ط:دار الكتب العلمية بيروت)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله: ولو عجل ذو نصاب) قيد بكونه ذا نصاب؛ لأنه لو ملك أقل منه فعجل خمسة عن مائتين ثم تم الحول على مائتين لا يجوز، وفيه شرطان آخران: أن لا ينقطع النصاب في أثناء الحول، فلو عجل خمسة من مائتين ثم هلك ما في يده إلا درهما ثم استفاد فتم الحول على مائتين جاز ما عجل،الخ (2/293)۔
و فی الھندیۃ: ويجوز تعجيل الزكاة بعد ملك النصاب، ولا يجوز قبله كذا في الخلاصة. الخ(176/1)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حمزہ منان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93410کی تصدیق کریں
0     18
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات